آرمی پبلک سکول حملہ، تاریخ کا بد ترین باب اور ایک نوجوان ہیرو

0
19

احمد نواز کو 16دسمبر 2014 کی صبح اچھی طرح یاد ہے جب دہشت گردی کے واقعے میں ہلاک ہونے والا ان کا بھائی حارث اس روز سکول نہیں جانا چاہتا تھا
پشاور میں آرمی پبلک سکول میں شدت پسندوں کے حملے میں اپنے ایک سال چھوٹے بھائی حارث نواز اور سو سے زائد سکول کے ساتھیوں سے محروم اور خود موت کے منھ سے بچ جانے والے 17 سالہ طالب علم احمد نواز نے سانحہ سے پہلے کبھی بھی سٹیج پر کھڑے ہو کر تقریر نہیں کی تھی۔

مگر اب ان کا شمار ان بہترین مقررین میں ہوتا ہے جو نوجوان طالب علموں کو انتہا پسندی سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

احمد نواز اب تک برطانیہ میں ہاؤس آف لارڈز، آکسفرڈ یونیورسٹی سمیت دو سو سے زائد تعلیمی اداروں کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں خطاب کر چکے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے احمد نواز سے ملاقات کی اور ان کو خدمات کو زبردست الفاظ میں سہراتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ کام جو برطانیہ ارب پاونڈز خرچ کرکے نہ کرسکا احمد نواز نے کر دکھایا ہے۔‘

احمد نواز کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ برطانیہ کے انسداد دہشت گردی یونٹ کے 11 سے 16 سال کے نوجوانوں کو انتہا پسندی سے بچانے کی مہم ’ایکشن کاؤنٹر ٹیرر ازم‘ میں سرکاری طور پر ان کی مدد کر رہے ہیں۔ ان کو لندن کی ایڈوائزری بورڈ آف نیشنل ٹیررازم کونسل کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔

ان کو برطانیہ اور یورپ کا ینگ پرسن آف دی ایئر، ایشیا انسپائریشن ایوارڈ اور درجنوں دیگر ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔

آنے والے دونوں میں احمد نواز پرتگال میں منعقد ہونے والی کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ جس میں نوبل انعام یافتگان اور مملکت کے سربراہوں کو دعوت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ون ینگ ورلڈ کانفرنس اور دیگر بین الاقوامی سیمنارز اور کانفرنسوں سے بھی خطاب کریں گے، جس میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی کانفرنس بھی شامل ہے۔

احمد نواز جہاں پر عالمی طورپر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک علامت بن کر ابھرے ہیں وہاں پر تعلیمی میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ انھوں نے حالیہ امتحان میں شاندار کارگردگی دکھائی ہے جس کے بعد انھیں سکالر شپ پر برطانیہ کے نامور تعلیمی ادارے کنگ ایڈورڈز میں داخلہ دیا گیا ہے۔

احمد نواز کو 16دسمبر 2014 کی صبح اچھی طرح یاد ہے جب دہشت گردی کے واقعے میں ہلاک ہونے والا ان کا بھائی حارث اس روز سکول نہیں جانا چاہتا تھا۔

انھوں نے بتایا: ’15 دسمبر 2014 کی شام ہماری والدین ایک تعزیت کے لیے سوات چلے گے تھے۔ گھر میں ہم دونوں بھائی تنہا تھے۔ والدین ہمیں تلقین کرکے گئے تھے کہ سکول سے چھٹی ہرگز نہیں کرنی ہے۔ 16 دسمبر کی صبح جب میں نے حارث نواز کو اٹھایا تو اس نے سکول جانے سے انکار کیا مگر میں نے اس کو ڈرایا کہ والدین ناراض ہوں گے۔ جس پر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ناشتہ کرکے سکول جانے کو تیار ہوگیا۔ سکول جاتے ہوئے سکول وین میں اس نے مجھ سے بہت جھگڑا کیا کہ میں اس کو کیوں سکول بھج رہا ہوں۔ بہرحال تھوڑی دیر کے بعد ہم سکول پہنچ گے۔ حارث نواز اپنی اور میں اپنی کلاس میں چلا گیا تھا۔‘

احمد نواز نے بتایا کہ تقریباً تین پریڈ کے بعد ہمیں کہا گیا کہ ہم سب مین آیٹوریم میں پہنچ جائیں جہاں پرابتدائی طبی امداد کے حوالے سے لیکچر ہوگا۔

’ہم سب طالب علم آیٹوریم میں پہنچ گے جہاں پر میں نے اپنے ایک ساتھی طالب علم سے وقت پوچھا تو میرا خیال ہے کہ اس نے بتایا کہ دس بج کر 30 منٹ ہوئے ہیں۔ ابھی اس نے یہ بات کی ہی تھی کہ پچھلے دروازے سے گولیاں چلنے کی آواز آئی تو میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ یہ چند دن پہلے ہونے والی ڈرل کا حصہ ہے جس میں ہمیں سکھایا گیا تھا کہ اگر کوئی دہشت گردی کا واقعہ پیش آئے تو کس طرح اپنی حفاظت کرنی ہے۔

’اسی ڈرل کو بروئے کار لاتے ہوئے میں یک دم ہی اپنی کرسی کے نیچے لیٹ گیا۔ فائرنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ میرے قریب ترین پہنچ گئی تھی۔ اسی اثنا میں دیکھا کہ ایک دہشت گرد میرے پاس بیٹھے ہوئے طالب علم کے سر پر گولی مار کر میری طرف مڑرہا ہے۔ میں سمجھ گیا کہ اب میری باری ہے۔ دہشت گرد نے بالکل قریب سے فائر کیا تو جو میرے دائیں بازو پر لگا اور بازو صرف ایک گوشت کے لوتھڑے سے جڑا رہا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور اسی طرح فائرنگ کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا تو میں اپنے زخمی بازو کو سنبھالتے ہوئے سٹیج کی جانب لپکا جہاں پر پر سکول استاد افشاں احمد موجود تھیں۔ افشاں احمد اپنے ہمراہ کچھ بچوں کو لے کر اسٹیج کے قریب بنے ہوئے چھوٹے کمرے میں داخل ہوئیں تو میں بھی پیچھے لپکا مگر چند ہی لمحوں میں دیکھا کہ افشاں احمد کو آگ لگی ہوئی تھی جس پر میں سٹیج کے ایک کونے میں لیٹ گیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ چند منٹ میں کچھ ایسی آوازیں سنی جس سے پتا چلا کہ سیکورٹی فورسز پہنچ گئی ہیں۔ ’میں مکمل طور پرنڈھال تھا، خون بہہ رہا تھا پوری طاقت جمع کرکے مدد کی آواز لگائیٌ‘

’چند لمحوں ہی کے اندر ہی کسی اہلکار کے کندھوں پر تھا۔ آیٹوریم سے باہر پہنچے تھے کہ واضح طورپر مجھے پتا چلا کہ ہم پر فائرنگ ہوئی ہے مگر محفوظ رہی اور تھوڑی دیر کے اندر میں ایمبولینس میں تھا۔ 16 دسمبر کے روز میں سکول میں تین مرتبہ موت کے منہ سے بال بال بچ کر ہسپتال پہنچا تھا۔‘

احمد نواز کا بتایا تھا کہ ہسپتال میں بے انتہا رش تھا عوام کا سمندر ہمیں تسلیاں دے رہا تھا۔ وہاں پر موجود ایک شخص سے فون لے کر اپنے والد کو کال کی اور پھر جب ہوش آیا تو ان کے والدین اور دیگر عزیز و اقارب ان کے قریب موجود تھے۔ ’15 روز تک مجھے حارث کی ہلاکت کا نہیں بتایا گیا تھا مگر جب فیس بیک دیکھی تو پتا چلا کہ حارث تو اس دنیا میں موجود ہی نہیں ہے۔ جس پر میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پشاور لیڈی ریڈنگ میں عوام اور ہسپتال کا عملہ بہت محبت دے رہے تھے مگر عملے میں یہ باتیں ہورہی تھیں کہ میرا بازو کاٹ دیا جائے گا جس پر میں مایوسی کا شکار تھا۔ مگر 30 روز بعد پتا چلا کہ مجھے علاج کے لیے برطانیہ بھجا جارہا ہے ۔ واقعے کے 40 روز بعد میں کیوئین الزبیتھ ہسپتال برمنگھم میں تھا۔ جہاں پر عملے نے محبت اور شفقت سے میرا علاج کرنے کے علاوہ مجھے ذہنی طور پر طاقت ور بنایا۔ پشاور میں میرے چھ اور برمنگھم میں میرے پانچ آپریشن ہوئے جس کے بعد مجھے خوش خبری سنائی گئی کہ میرا بازو بچ گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بازو بچ جانا میرے لیے بہت بڑی خوشی کی خبر تھی جس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔‘’برمنگھم ہسپتال میں علاج کے دوران میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ میرا، میرے بھائی اور میرے دوستوں کا کیا قصور تھا؟ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں اور کس طرح ایک مسلمان دوسرے مسلمان اور کسی بھی بے گناہ کو قتل کرسکتا ہے۔ برمنگھم ہسپتال میں علاج ہی کے دوران ٹیلی وژن کی خبروں پر دیکھا کہ پورا برطانوی معاشرہ نوجوان طالب علموں کے انتہا پسند ہونے اور دہشت گرد گروپوں میں شمولیت سے پریشان ہے۔ یہ خبریں دیکھ کر میں سوچنے لگا کہ کیایہ طالب علم یہ نہیں جانتے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی وجہ سے ہم پاکستانیوں پر کیا بیتی ہے؟‘

احمد نواز کا کہنا تھا کہ ’ہسپتال سے فارغ ہوا تو بڑی تعداد میں میڈیا نے مجھ سے بات کی جس دوران میں نے اپنا بازو اور جان بچ جانے پر برطانوی حکومت، معاشرے کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ خوشی کااظہار کیا اور اس بات پر دکھ کر اظہار کیا کہ برطانیہ میں بھی نوجوان طالب علموں کے اندر انتہا پسندی پھیل رہی ہے ، مگر وہ اس کے نتائج نہیں جانتے ۔ برطانوی نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ہم سے سبق لیں کہ انتہا پسندی کی وجہ سے پاکستان میں سوسائٹی متاثر اور خاندان تباہ و برباد ہوچکے ہیں۔‘

احمد نواز کے مطابق یہ انٹرویوز نشر ہونے کے بعد برطانیہ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے والی متعدد تنظیموں، اداروں کے علاوہ سال 2015 میں ہاؤس آف لارڈز کی سپیکر ڈی سلوا نے رابطہ قائم کرکے ہاؤس آف لارڈز سے خطاب کی دعوت دی تھی۔

’ہاؤس اف لارڈزمیں تقریر، میری سب پہلی تقریر اور انتہا پسندی کے خلاف میری مہم کا آغاز تھا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’ہاؤس آف لارڈز سے خطاب سے پہلے اور اس کے دوران بہت زیادہ خوفزدہ اور پریشان تھا۔ کبھی بھی تقریر نہیں کی تھی۔ مگر جب ایک مرتبہ شروع کی تو اس موقع پر دنیا کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے بچانے کا جذبہ شامل حال ہوگیا۔‘

’بس ایک ہی بات یاد تھی کہ برطانیہ نے میرا علاج کیا ہے اور مجھے برطانیہ کی سوسائٹی کو محفوظ کرنا ہے۔ پھر کیا تھا میں نے اپنال دل کھول کر رکھا دیا اور جب تقریر ختم کی تو ہاؤس آف لارڈ تالیوں سے کونج رہا تھا۔‘

احمد نواز کو سال 2016 میں برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے ملاقات کی دعوت دی تھی ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد مختلف غیر سرکاری اداروں کی جانب سے مختلف مقامات پر سیمنارز اور کانفرنسوں سے خطاب کی دعوت موصول ہوتی جو میں قبول کرلیتا اور ان کو اپنی، پشاور، صوبہ خیبرپختونخوا اور پاکستان میں لوگوں کی دہشت گردی کے ہاتھوں تباہی کی کہانی سنا کر اپیل کرتا کہ خود اور اپنے بچوں کو انتہا پسندی سے محفوظ کرنے کے اقدامات کریں۔‘

احمد نواز کہتے ہیں کہ ’تعلیمی اداروں میں خطاب کے دوران اپنے ہم عمر طالب علموں کو بتاتا ہوں کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی نے مجھ سے میرا بھائی اور دوست چھین لیے ہیں، کئی ایک بچوں سے ان کے والدین چھن چکے ہیں۔ جس کے بعد کئی طالب علم مجھ سے ملتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ نے ہمارے سوچنے کا انداز تبدیل کردیا ہے۔ میں اس کو بڑی کامیابی سمجھتا ہوں۔‘

احمد نواز کو سال 2016 میں برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے ملاقات کی دعوت دی اس حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ ’اس ملاقات کے دورن انھوں نے مجھے کہا کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنی مہم کو جاری رکھیں۔ وزیراعظم ہاؤس سے ہوم آفس کو ہدایات جاری کردی جائیں گی کہ وہ آپ کے ساتھ تعاون کریں۔ اب تک جو کام کیا ہے وہ بہت قیمتی ہے۔ وہ کام ہوا ہے جو بلین پاونڈز خرچ کرکے بھی نہیں کرسکے ہیں، اس کے بہت مثبت نتائج بر آمد ہورہے ہیں۔‘

بہ شکریہ بی بی سی

کوئی تبصرہ نہیں