آرمی پبلک سکول پشاور، قیامت کا دن

0
22

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے کو چار برس مکمل ہونے کو ہیں مگر اس حملے میں مارے جانے والے درجنوں بچوں کے والدین آج بھی اس سانحے سے جڑے سوالات کے جوابات کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

سپریم کورٹ نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا ہے جو حملے کے چار سال بعد وزارت دفاع سے طلب کیے گئے جوابات موصول ہونے کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کرنے والا ہے۔

مگر کیا یہ کمیشن اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر سکے گا؟ کیا والدین اس کمیشن کی رپورٹ سے مطمئن ہو جائیں گے؟ اور کیا اگر کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے تو اسے سزا دی جا سکے گی؟

پشاور کی ورسک روڈ پر قائم آرمی پبلک سکول پر مسلح شدت پسندوں نے 16 دسمبر 2014 کو حملہ کر کے طلبہ، اساتذہ اور عملے کے ارکان کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں 147 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

حملہ آور عقبی دیوار پھلانگ کر سکول کے آڈیٹوریم میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس حملے میں کچھ بچوں کو بےدردی سے قتل کیا گیا جب کہ ایک ٹیچر کو آگ بھی لگا دی گئی تھی۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔

آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ملکی سطح پر پالیسیوں میں تبدیلیاں لائی گئیں اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت شدت پسندوں کے خلاف متعدد کارروائیاں اور آپریشنز کیے گئے۔

اے پی ایس حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین اس سانحے کے بعد سے مطالبہ کرتے رہے کہ ایک خودمختار آزاد عدالتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ اس حملے میں ملوث افراد اور ذمہ داروں کا تعین ہو سکے اور انھیں سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات نہ ہوں۔

ان چار سالوں میں حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں اور اساتذہ کے والدین نے عدالتوں سے بھی رجوع کیا لیکن والدین مطمئن نہیں ہوئے اور ان کی درخواستیں واپس کر دی گئی تھیں۔

اسی دوران نیشنل ایکشن پلان کے تحت کی جانے والی کارروائیوں میں سکیورٹی حکام کے مطابق اے پی ایس حملے میں ملوث افراد کی گرفتاریاں بھی کی گئیں اور کچھ لوگوں کو فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے بعد سزائے موت اس بنا پر دی گئی کہ وہ لوگ آرمی پبلک سکول حملے میں ملوث تھے۔

تاہم حکام کے اس اقدام سے بھی والدین مطمئن نہیں ہوئے اور ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور انھیں سزا دی گئی انھیں کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون لوگ تھے کیسے انھوں نے منصوبہ بندی کی اور انھیں عوام کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا گیا۔

والدین کا موقف رہا ہے کہ ان کے بچے ایک چھاؤنی میں قائم فوج کے زیر انتظام سکول میں حصولِ تعلیم کے لیے گئے تھے وہ جنگ کے محاذ پر نہیں تھے اور یہ کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کی فیس سکول انتظامیہ کو باقاعدگی سے دیتے تھے تو پھر یہ واقعہ کیسے پیش آیا، کس کی ایما پر ہوا اور کس کی غفلت کا نتیجہ تھا؟

والدین کا یہی مطالبہ رہا ہے کہ اس سلسلے میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور جن کی غفلت یا لاپروائی سے یہ حملہ ہوا ہے انھیں سزا دی جائے۔

جوڈیشل کمیشن کا قیام اور کام

سپریم کورٹ نے پانچ اکتوبر 2018 کو کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سینیئر جج کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن تشکیل دیں جو ان والدین کی شکایات کی روشنی میں مکمل تحقیقات کرے جن کے جگر گوشے 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردی کی اس واردات میں اپنی جان سے گئے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق یہ کمیشن ان والدین کی شکایات کے ازالے کے لیے مکمل تحقیقات کرے گا اور اس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔

یہ کمیشن جسٹس ابراہیم خان کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا جس نے 12 اکتوبر سے کام شروع کیا اور جن 103 افراد کے بیانات قلم بند کیے ان میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین اور اساتذہ کے اہلخانہ کے علاوہ واقعے میں زخمی ہونے والے بچے بھی شامل ہیں۔

’وہ منظر لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا‘

’آج بھی میں اپنی بیٹی کو آواز دیتا ہوں‘

جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ 45 روز میں رپورٹ جمع کرانی تھی لیکن 103 افراد کے بیانات قلمبند کرنے اور انھیں پورا موقع دینے کی وجہ سے کمیشن نے 15 روز کے لیے توسیع کی درخواست کی تھی جس کے بعد اب توقع ہے کہ اس ماہ کی 20 تاریخ تک رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی جائے گی۔

کمیشن اس وقت وزارت دفاع کے جواب کا بھی انتظار کر رہا ہے اور اس سلسلے میں وزارت دفاع کو یاد دہانی کے خطوط بھی ارسال کیے جا چکے ہیں۔ وزارت دفاع سے بدھ کی شام تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

اطلاعات کے مطابق وزارت دفاع نے جی ایچ کیو سے تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ آرمی پبلک سکول پر حملے کے بارے میں ان کا بیان کمیشن میں پیش کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ کمیشن کے ارکان آرمی پبلک سکول کا دورہ بھی کریں تاکہ حقائق معلوم کیے جا سکیں۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کمیشن ذمہ داروں کا تعین کر سکے گا؟ بعض والدین اس ضمن میں مایوس ہیں۔ فضل خان ایڈووکیٹ کے بیٹے عمر خان سکول حملے میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔ عمر خان آٹھویں جماعت کے طالبعلم تھے۔

فضل خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس سال نو مئی کو بھی ایک کمیشن تشکیل دینے کا کہا تھا لیکن اس وقت اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہانھوں نے اپنے حق کے لیے درخواست دی تھی جو مسترد ہو گئی اور پھر از خود نوٹس پر کمیشن تشکیل دے دیا گیا۔

فضل خان کے مطابق ان کی خواہش تھی کہ کمیشن سپریم کورٹ کے اعلیٰ ججوں کی سربراہی میں قائم ہوتا اور وہ تمام سٹیک ہولڈرز کو طلب کر کے تحقیقات کرتا تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکتا۔

تاہم فضل خان کے برعکس والدین کی بڑی تعداد ایسی ہے جنھوں نے اس کمیشن کے قیام پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے بہتر نتائج سامنے آ سکیں گے۔

اجون خان ایڈووکیٹ کے طالب علم بیٹے اسفند خان اس حملے میں حملہ آوروں کا نشانہ بنے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ایسا لگتا ہے کہ اس سے ذمہ داروں کا تعین ہو سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مطالبہ یہی تھا کہ ان لوگوں کو سامنے لایا جا سکے جن کی وجہ سے سکیورٹی ناکام ہوئی اور اس سے ایسا ہو سکتا ہے کہ آئندہ سکیورٹی ایجنسیاں بھی الرٹ ہوں گی کہ کوئی ان سے پوچھنے والا ہے اور پوچھنا ضروری ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ 28 تاریخ کو دھمکی موصول ہونے کے بعد 540 روپے فی طالبعلم پرائیویٹ گارڈز کے لیے چارج کیے گئے تھے اور اس سکول میں دو ہزار طالب علم ہیں اور اس واقعے میں کوئی پرائیویٹ گارڈ ہلاک نہیں ہوا تو یہ ساری رقم کہاں گئی؟‘

گل شہزاد خٹک کی بیٹی سعدیہ گل اس سکول میں انگلش کی استانی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جس طریقے سے کمیشن نے تمام والدین کو سنا اور انھیں مکمل موقع اور وقت دیا تو لگتا ہے کہ کچھ بہتری آ سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔‘

دکھ بھرے چار سال
یہ کمیشن اگر ان جوابات کو تلاش کر لیتا ہے تو شاید والدین کے ان زخموں پر مرہم رکھنے کی وجہ بھی بنے جو چار برس گزرنے کے بعد بھی ہرے ہیں۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی شاہانہ عجون کے بیٹے اسفند خان آرمی پبلک سکول میں دسویں جماعت کے طالبعلم تھے اور اس حملے میں مارے گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’چار سال بڑا عرصہ ہوتا ہے لیکن اس دوران ہم جن حالات سے گزرے اور جو دکھ اور تکالیف ہم نے برداشت کیں ان کو یاد کر کے ایسا لگتا ہے کہ جیسے آج بھی ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم اس وقت کو کبھی نہیں بھول سکتے جب ہم پاگلوں کی طرح ہسپتالوں میں گھوم رہے تھے، جب ان کی لاش گھر پہنچی اور جب ہم نے ان کو اس حالت میں دیکھا، اس سارے منظر کو یاد کر کے ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے چند ہی لمحوں میں ہم سے دنیا کا سب کچھ چلا گیا ہو۔‘

شاہانہ عجون کے مطابق ’ان چار سالوں میں ہم نے کبھی خوشی نہیں دیکھی، ہمیں سکون نہیں ملا، کبھی جی بھر کے آرام نہیں کیا، بیٹے کی شہادت نے ہماری سب خوشیاں اور آرمان ایسے پل بھر میں زمین بوس کر دیے کہ ہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں ہوا اور اب دائمی غم ہمارا مقدر بن چکا ہے۔‘

ان کے بقول انھیں اگر پہلے سے یہ معلوم ہوتا کہ ان کے بیٹے کا ان کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے تو وہ انھیں کبھی کہیں جانے نہ دیتی اور ہر وقت ان کو پیار کرتی رہتیں۔

کیسے بھول جائیں؟
شاہانہ عجون نے کہا کہ ’میں لاکھ بھی کوشش کروں لیکن پھر بھی اپنے اسفند کو نہیں بھلا سکتی، میں کیسے اسے بھول جاؤں جب ان کے دوست آتے ہیں، ان کے کزن آتے ہیں، وہ سب کتنے بڑے ہو چکے ہیں اگر میرا اسفند زندہ ہوتا تو آج وہ بھی کتنا بڑا ہو چکا ہوتا، وہ کتنا خوبصورت لگ رہا ہوتا۔‘

شاہانہ عجون کے بیٹے اسفند خان 2014 میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے میں حملہ آوروں کا نشانہ بنے تھے
شاہانہ عجون نے کہا کہ دسمبر کا مہینہ جب شروع ہوتا ہے تو ان کا غم بڑھتا چلا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مہینے میں تو جیسے صبح و شام ان کے سامنے اے پی ایس واقعے کی وہ فلم چل رہی ہوتی ہے اور وہ سب مناظر ہو بہو سامنے نظر آتے ہیں۔

‘اس سال دسمبر کا مہینہ جب شروع ہوا تو میری ایک کزن نے مجھے ’ہیپی دسمبر‘ کا پیغام بھیجا تو میں نے اسے فوراً جواب دیتے ہوئے کہا کہ دسمبر میرے لیے کبھی ہپی نہیں ہو سکتا یہ تو میرے لیے منحوس مہینے سے کم نہیں۔’

’امید پر دنیا قائم ہے!‘
شاہانہ عجون نے کہا ‘بحثیت مسلمان ہم سب کا یہ عقیدہ ہے کہ میرا بیٹا اب کبھی واپس نہیں آ سکتا بلکہ اب تو ہم نے ان کے پاس جانا ہے۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت ہم اکیلے رونے والے نہیں تھے بلکہ پورا پاکستان ہمارے ساتھ رو رہا تھا۔ اس مشکل وقت میں تمام بچوں کے والدین ایک مٹھی کی طرح ایک دوسرے کا سہارا بنے کیونکہ وہی افراد آپ کا غم بہتر انداز میں جان سکتے ہیں جو خود اس صدمے سے گزر رہے ہوں۔’

انھوں نے کہا کہ ‘مجھے اس بات پر فخر ہے کہ آج میں ایک شہید بیٹے کی والدہ ہوں لیکن اس کے لیے میں نے بہت بڑی قربانی دی ہے۔’

ان کے مطابق ان کا بیٹا تو نہیں رہا لیکن ان کی یادیں ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہیں اور یہی حال اس واقعے میں بچے کھونے والی دیگر ماؤں کا بھی ہے۔

بی بی سی

کوئی تبصرہ نہیں