احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ

0
18

اسلام آباد: عدالت عالیہ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔

ترجمان اسلام آباد ہائی کورٹ کے مطابق جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے وزارت قانون کو خط لکھ کر کہا ہے کہ وزارت قانون جج ارشد ملک کی خدمات واپس لے۔ ارشد ملک کو ڈیپوٹیشن پر احتساب عدالت میں جج لگایا گیا تھا اور ان کی خدمات واپس پنجاب کے حوالے کی جائیں گی۔

اس فیصلے سے کچھ دیر قبل جج ارشد ملک نے ویڈیو اسکینڈل پر قائم مقام چیف جسٹس ہائیکورٹ کو خط لکھ کر مریم نواز کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد ارشد ملک نے مبینہ ویڈیو معاملے پر رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملاقات کی اور عدالت عالیہ کے نام ایک خط ان کے حوالے کیا۔

ترجمان اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق جج ارشد ملک نے خط میں وڈیو میں لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ارشد ملک نے ن لیگ کی مبینہ دھمکیوں اور نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے کےلیے رشوت کی پیشکش کا بھی خط میں تذکرہ کیا ہے۔

ترجمان اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق ارشد ملک نے خط کے ساتھ اتوار کو جاری کی گئی پریس ریلیز منسلک کرتے ہوئے بیان حلفی بھی جمع کرایا ہے۔ رجسٹرار نے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات کرکے انہیں جج ارشد ملک کے خط اور بیان حلفی سے آگاہ کیا۔

اس خط کے بعد قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کے لیے خط لکھ دیا۔

واضح رہے کہ جج ارشد ملک نے گزشتہ روز قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق سے بھی ملاقات کی تھی۔ وہ قائم مقام چیف جسٹس سے پیر اور جمعرات کو دو ملاقاتیں کرچکے ہیں۔

پس منظر

مریم نواز نے پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں بلیک میل کرکے اور دباؤ ڈال کر نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا دینے پر مجبور کیا گیا، وگرنہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا۔
ارشد ملک نے ایک روز بعد پریس ریلیز جاری کرکے مریم نواز کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ویڈیو کو بھی مسترد کردیا۔

کوئی تبصرہ نہیں