انتخابی اصلاحات اور اپوزیشن کا اختلاف

0
23

تحریر : راجہ بابر شہزاد آف کامرہ شرقی

آج تک سرزمین میں ہونے والے تمام انتخابات کو متنازعہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ الیکشن کا انعقادمکمل ہوتے ہی ہر طرف سے دھاندلی دھاندلی کی آوازیں اٹھنا ایک معمول بن چکا ہے۔ بد قسمتی سے ہارنے والی جماعتوں میں نتائج کو تسلیم کرنے کی روایت نہ ہونے کی وجہ سے پہلے دن سے دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات دھاندلی کا راگ الاپنے والی تمام جماعتیں ایک سے ذیادہ مرتبہ حکمرانی کا مزہ چکھ چکی ہے۔ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے دھاندلی لے نعرے لگانے والی یہ جماعتیں مسند حکمرانی پر براجمان ہوتے ہی الیکشن کی شفافیت کے قصیدے پڑتے نہیں تھکتی۔ اگر ان سے یہ سوال پوچھا جائے کہ اگرواقعتا ہر الیکشن دھاندلی زدہ ہوتا ہے تو بار بار اقتدار کے مزے لوٹنے کو باوجود انتخابی اصلاحات کرنے کی زحمت گوارہ کیوں نہیں کی گئی۔ کئی ایسا تو نہیں ملک میں انتخابی اصلاحات کرنے بعد صاف شفاف اور منصفانہ الیکشن کروانے کی صورت میں ان جماعتوں کا تاج حکمرانی حاصل کرنے کا خواب چکنا چور ہوجائے اور دھاندلی کے ذریعے مسند اقتدار تک پہنچنے والی یہ جماعتیں ہمیشہ کے لیے قصہ پارینہ بن جائیں۔ موجودہ حالات میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے اختیار کیے جانے والے رویے کو دیکھنے کے بعد ان خدشات کو تقویت ملنا کوئی حیران کن بات نہیں۔ اب جب کہ 74سال سے ذیادہ عرصہ گذر جانے بعد اگر کسی نے خلوص نیت سے اس اہم مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرتے ہوئے اس کو حل کرنے کے لیے سعی کی اور مخلصانہ کوشش کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات کرنے کا بیڑہ اٹھایا جس کو یہی نام و نہاد سیاسی جماعتیں مختلف ادوار میں وطن عزیز کی ترقی،خوشحالی اور جمہوریت کی بقاء کے لیے ناگزیر قرار دیتی رہی ہیں آج اس اہم ایشو پر ساتھ دینے کی بجائے اس کی مخالفت کرنا دال میں کچھ کالا ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔اس ملک کی بدقسمتی رہی ہے کہ اس کے ناقص نظام الیکشن میں کئی عشروں سے دنیا ء فانی سے کوچ کرجانے والوں کوبھی ووٹ ڈالنے کا حق دیا جاتا رہا ہے۔اس کے علاوہ دوسرے ممالک سے ہجرت کر کے آنے والوں کو جعلی شناختی کارڈ تیار کروا کے دیے جاتے رہے اور دوران الیکشنزان سے اپنے حق میں ووٹ ڈلوانے کا سلسلہ بلا روک و ٹوک جاری رہا۔آج تک ملک میں حکمرانی حاصل کرنے کے لیے ملکی سلامتی تک کو داؤ پر لگایا جاتا رہا۔ ان سب کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں بلکہ کئی عشروں سے بار بار ایوان اقتدار کے اونچے محلات کے مزے لینے والے انھی شرفاء پر عائد ہوتی ہے۔ جو موجودہ اصلاحات کے خلاف صف آراء ہو چکے ہیں۔ موجودہ حکومت کی طرٖف سے کیے جانے والے اس احسن قدم کو بھی اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ راقم موجودہ حکومت کے ناقدین میں سے ہے جس نے ہمیشہ اپنی صحافتی زمہ داری کا ادراک کرتے ہوئے اس کے ہر اس اقدام کی مخالفت کی ہے جو عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث بنا ہو۔ چاہے وہ ملک میں بڑھتی کمر توڑمہنگائی ہو یا یکساں تعلیمی نظام اس کے آج سے چند ما ہ پہلے ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کے حوالے سے انتخابی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت کے عنوان سے بندہ ناچیز کی طرف سے لکھی گئی تفصیلی تحریر بھی ملک کی نامور اخبارات کے ذریعے قارئین کی خدمت میں پیش کی جاچکی ہے ان میں سے کچھ نقاط جو خاص طور پر موجودہ حکومت کے انتخابی اصلاحات کے بل میں کلید ی حیثیت رکھتے ہیں آج بھی اخبارات کے صفحوں میں بطور شہادت موجود ہیں۔ جن میں ووٹنگ الیکٹرونکس مشین کا استعمال اور بیرون ممالک رہائش پذیر پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا شامل ہیں۔ موجودہ حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اس اقدام کے ملکی سیاست اور اس کے مستقبل پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ جس میں خاص طور پر ہر الیکشن کے بعد دھاندلی دھاندلی کے اٹھنے والے طوفان کو روکنے میں مدد ملے گیاور ہر انتخابات کے بعد اس کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات کی حوصلہ شکنی ہو گی۔اس عمل سے انتخابات میں انسانی کردار کو کم سے کم کیا جا سکے گا جس سے سسٹم پر اثر انداز ہونے کے نعرے کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے گی اور دنیا بھر میں ملکی سلامتی کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے والوں کے ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے میں مدد حاصل ہو گی۔ یہ عمل دنیا بھر ملکی وقار میں اضافے کا باعث بنے گا۔ موجودہ پارلیمنٹ سے پاس کیے جانے والے بل میں شامل دوسری اہم شق میں بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا شامل ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا بھر میں موجود 20لاکھ سے ذائد پاکستانی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں یہی وہ محب طن پاکستانی ہیں جنھوں نے ہر مشکل اور کٹھن وقت میں چاہے وہ ملک کی ڈوبتی معیشت ہو یا قدرتی آفت ہمیشہ صف اوؒل کے سپاہی کی طرح بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وطن عزیز پر جب بھی مشکل صورت حال پیدا ہوئی چاہے وہ سیلابی کیفیت ہو یا زلزلہ ہمیشہ لبیک کہتے ہوئے مشکل میں گھرے اپنے بھائیوں کی دل کھول کر مدد کی۔ مگر بدقسمتی سے ان کی تمام کاوشوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ دنیا بھر میں موجود ان ہیروز کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی بجائے آنکھیں چرائی گئیں۔ یہاں تک کہ ان کو ووٹنگ جیسے اہم عمل سے اچھوت سمجھ کر دور رکھا گیا۔ موجودہ حکومت کی طرف سے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے فیصلے سے دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے لیے کسی انمول تحفے سے کم نہیں۔ چونکہ راقم کا تعلق بھی اوور سیز کمیونٹی سے ہیں اس لیے اس فیصلے کے بعد پیدا ہونے والے جذبات کا بخوبی احاطہ کرسکتا ہے۔ ووٹ کا حق کے دیے جانے کے بعد دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کے چہروں پر اطمینان کی لہر دوڑ چکی ہے جو ان کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گی اور عرصہ دراز سے ان کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی کی صورت حال کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ان کے اندر ملکی نظام میں شامل ہوکر اپنی مٹی کی خدمت کرنے کا جذبہ پیدا ہو گاجو ملک کی نیک نامی اور خوشحالی کا باعث بنے گا۔یہاں پر اپنے آپ کو ملک کی خوشحالی کی ضامن اور بقاء کی علمبرار کہلانے والی اپوزیشنزسے تعلق رکھنے والی تمام جماعتوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وطن عزیز اور اس میں بسنے والی غریب عوام کے مفاد کو مقدم رکھیں۔ حکومت کی ناعوام دشمن فیصلوں کے خلاف آواز ضرور اٹھائیں مگر ملکی نظام میں بہتری لانے والے فیصلوں کو خوش آمدید کرتے ہوئے کھل کر ان حمایت کریں۔موجودہ حکومت کو ایسی قانون سازی کرنے پر مجبور کریں جو آنے والی نسل کے روشن مستبل کی ضمانت بن سکے۔اب بھی اگرحالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے زمہ داری کا مظاہرہ کرنے میں کوتاہی برتی گئی تو تاریخ کے کٹہرے میں ایک مجرم کی حیثیت سے کھڑا ہونا ہوگا۔ جو یقینا کسی طور بھی قابل تحسین عمل نہیں ہوگا

کوئی تبصرہ نہیں