بحریہ ٹاؤن کی سرمایہ کاری اور ملک ریاض کی بے حساب دولت

0
34

سندھ کے محکمہ ریونیو نے کراچی میں بحریہ ٹاؤن کو دی جانے والی ہزاروں ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی ہے۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لیے مختص 14617 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کا حکم نامہ بھی مسترد کردیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے قائم کمیٹی جس میں سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو محمد حسین سید، سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن آفتاب میمن، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل عمران عطا سومرو، ڈپٹی کمشنر ملیر شہزاد فصل شامل تھے نے 4 مئی کے فیصلے کا جائزہ لیا۔

28 اکتوبر کو کمیٹی کا یہ اجلاس منعقد ہوا جس کے منٹس کے مطابق کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لیے مختص 17617 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کا حکم نامہ منسوخ کیا جائے گا اسی طرح سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ملیر ڈویلمپنٹ اتھارٹی کو دی گئی 11680 ایکڑ زمین واپس لی جائے گی۔

ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل عمران عطا سومرو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے کی تعمیل کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور فیصلہ دیا تھا کہ حکومت سندھ کی زمین حکومت کو واپس کردی جائے اور بحریہ ٹاؤن نے جس زمین کا تبادلہ کیا ہے وہ زمین واپس بحریہ ٹاؤن کے حوالے کی جائے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ چونکہ اس وقت تک بحریہ ٹاؤن میں بڑے پیمانے پر کام ہو چکا ہے جس سے تیسرے فریق ( بحریہ ٹاؤن کے الاٹیز) کے مفادات بھی وابستہ ہو چکے ہیں لہٰذا بحریہ ٹاؤن کو 1912 کالونائزیشن ایکٹ کے تحت دوبارہ زمین الاٹ کی جائے لیکن اس کے لیے کیا شرائط ہونی چاہییں، زمین کی قیمت کیا ہو؟ کیا یہ قیمت وہ ہو جس کے تحت بحریہ نے لوگوں کو زمین فروخت کی ہے؟ ڈویلپمنٹ پر بحریہ ٹاؤن نے کتنی سرمایہ کاری ہے، ان سوالات کے جوابات کا تعین عدالتی فیصلے پر عملدارآمد کرانے والا بینچ کرے گا۔

کراچی میں ایک بڑے عرصے تک بدامنی کا سایہ اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا اندھیرا رہا اس صورتحال میں بحریہ ٹاؤن نے 2013 کے ماہ نومبر میں ایک جدید شہر کی تعمیر کا اعلان کیا، جس میں مقامی پاور جنریشن اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کا وعدہ کیا گیا۔ اس شہر میں رہائش اور کاروبار کے لیے درخواستیں طلب کی گئیں، اس درخواست فارم کی قیمت 15000 روپے مقرر کی گئی جو رقم ناقابل واپسی تھا۔

ان پلاٹوں کا رقبہ 125 گز سے لے کر ایک ہزار گز تھا، چند ماہ میں قرعہ اندازی کے بعد ان پلاٹوں، تعمیری گھروں اور فلیٹس کے فائل کی قیمت لاکھوں روپے تک پہنچ گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت لوگوں سے یہ درخواستیں طلب کی گئیں اس وقت تک یہ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اس ہاؤسنگ سکیم کا آغاز کہاں کیا جا رہا ہے۔ جس کا عکس سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی نظر آتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سوال کیا ہے کہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں جب بحریہ ٹاؤن نے منصوبے کا اعلان کیا تو کیا اس وقت بحریہ ٹاؤن یا اس کے ڈائریکٹرز کے پاس ملیر ضلع میں متعلقہ زمین موجود تھی؟ کیا لوگوں سے درخواستیں طلب کرنے سے قبل بحریہ ٹاؤن نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے یہ ہاؤسنگ سکیم منظور کرائی تھی۔

بحریہ ٹاؤن کے پاس زمین کہاں سے آئی؟
بحریہ ٹاؤن اس وقت کراچی حیدرآباد سپر ہائی وے پر زیر تعمیر ہے۔ اس کی ابتدا کراچی کے ضلع ملیر سے ہوئی اور یہ بڑھتے بڑھتے اس وقت تک جامشورو ضلع کی حدود میں داخل ہوچکا ہے۔ گوگل میپ کے ذریعے اس کی پیمائش کی جائے تو یہ 30 ہزار ایکڑ پر پھیل چکا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے مالکان کو ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا
بحریہ ٹاؤن کا کہنا ہے کہ انھوں نے پانچ ہزار ایکڑ زمین عام لوگوں سے خرید کی جبکہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسے 9385 ایکڑ زمین فراہم کی۔ بحریہ ٹاؤن نے جن عام لوگوں سے زمین خریدی ان تمام کی زمینیں بحریہ ٹاؤن کے زیر استعمال علاقے میں نہیں تھیں بلکہ بلوچستان اور ضلع ٹھٹہ و دیگر علاقوں موجود تھی۔ بحریہ نے ان زمینوں کا ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے تبادلہ کیا۔

سونے کے بدلے چاندی
بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ زمین کا تبادلہ 1982 سے جاری ہے، بحریہ نے ایم ڈی اے سے چار دیہات کی زمینوں کا تبادلہ کیا ہے، جس کے لیے چالیس لاکھ روپے جمع کرائے گئے ہیں، اس موقع پر بحریہ کے وکیل علی ظفر نے پیشکش کی تھی کہ ان کا موکل 1800 ایکڑ زمین کے لیے پانچ ارب روپے اضافی جمع کرانے کے لیے تیار ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس پر ریمارکس دیے کہ چاندی کے بدلے سونا لیا گیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ میں کہا ہے کہ ایم ڈی اے نے ایک بہترین زمین کے ٹکڑا کا دو دراز علاقے میں موجود ٹکڑیوں کے شکل میں تبادلہ کردیا اور یہ تبادلہ کالونائزیشن ایکٹ 1912 کی خلاف ورزی ہے۔

سستی زمین کروڑوں کی تعمیرات
بحریہ ٹاؤن نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے سے ایک لاکھ 25 ہزار فی ایکڑ کے حساب سے زمین خریدی۔ سندھ بورڈ آف ریونیو نے ایم ڈی اے کو یہ زمین انکریمینٹل ہاؤسنگ سوسائیٹی ( سستے گھروں کی تعمیر) کے لیے دی تھی جس کی وصف میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کے تعاون سے خاندانوں کے لیے گھروں کی تعمیر کی جائے گی جن کا سائز 120 مربع گز سے زیادہ نہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ بھی معلوم ہوتا کہ بحریہ ٹاؤن کے قیام سے چند سال قبل 2006 میں اس علاقے میں زمینوں کی قیمتیں زیادہ تھیں لیکن بحریہ کی آمد سے صرف دو سال قبل یعنی 2011 میں قیمتوں میں اچانک کمی آگئی، عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کچھ واقعات میں تو یہ قیمتیں 2006 میں موجود قیمت سے بھی نصف تک چلی گئیں۔

ایم ڈی اے کا موقف تھا کہ کوئی بھی بلڈر 2006 میں اس وقت کی مقررہ قیمت پر سرمایہ کاری کے لیے تیار نہ تھا۔ بحریہ ٹاؤن میں موجودہ وقت 125 گز کا پلاٹ مختلف کیٹگریز میں تیس سے پچاس لاکھ رپے میں دستیاب ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے تھے کہ ایم ڈی اے نے پراپرٹی ڈیلر کا کردار ادا کیا جبکہ حکومت سندھ ریاست کی زمین کے تحفظ کے بجائے بحریہ ٹاؤن کی ساتھی بن گئی۔ بحریہ ٹاؤن کے وکیل عدالت کو بتا چکے ہیں کہ بحریہ نے 500 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے جس میں سے 213 ارب لوگوں کے پاس اقساط کی شکل میں موجود ہیں۔

مقامی مزاحمت اور مخالفت
ملیر ضلع 2557 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جس میں پہاڑی علاقے کے ساتھ، میدانی علاقے، ندی نالے اور زرعی زمینیں آجاتی ہیں، یہاں کئی سو گاؤں موجود ہیں لیکن انھیں ریگولرائزڈ نہیں کیا گیا۔ باجود اس کے یہاں کے لوگ قیام پاکستان سے قبل سے یہاں آباد ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے میں الاٹیز کو تحفظ دیا گیا ہے صرف بحریہ ٹاؤن سے اصل رقم وصول کی جارہی ہے
دیہہ لنگجی، کونکر، کاٹھوڑ اور بولھاڑی میں مقیم لوگوں اور ان کے مرغی فارم اور زمینیں پولیس کی مدد سے حاصل کی گئیں، مقامی رہائشی الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کے نوجوانوں کو حراست میں لے لیا جاتا اور زمین سے دستبردار کروا لیا جاتا، حالانکہ ان کے پاس حکومت کی لیز موجود تھی لیکن انھیں پہلا حق دینے کے بجائے بحریہ ٹاؤن کو زمین دے دی گئی۔

مقامی لوگوں نے کراچی انڈیجنس رائٹس الائیس کے نام سے تنظیم بنائی جو گزشتہ چار سالوں سے سراپا احتجاج ہے۔ تنظیم کے رہنما گل حسن کلمتی کا کہنا ہے کہ جن افسران نے غیر قانونی الاٹمنٹ کی ہے ان کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہیے جو نہیں ہوئی اور بحریہ ٹاؤن کی لالچ کہاں تک جائے گی اس کے سامنے بند باندھنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ دس روز قبل بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بھی اخبارات میں ایک اشتہار جاری کرکے عوام کو متنبہ کیا تھا کہ ادارے نے 1330 ایکڑ کی فروخت اور تشہیر کی اجازت دی تھی تاہم سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ بحریہ ٹاؤن جاری کردہ این او سی سے بالاتر سرگرمیاں کر رہی ہے، کئی مرلہ بنگلے اور عمارتوں کی تعمیر کی جارہی ہے، جن کی سندھ بلڈنگ کنٹرول سے اجازت نہیں لی گئی۔

بحریہ ٹاؤن کے الاٹیز نے بھی سپر ہائی وے پر احتجاج کرکے اپنا عدالت سے نظر ثانی کی اپیل کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں ان کی جمع پونجی لگی ہے تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے میں الاٹیز کو تحفظ دیا گیا ہے صرف بحریہ ٹاؤن سے اصل رقم وصول کی جارہی ہے۔

بی بی سی

کوئی تبصرہ نہیں