خیبرپختونخوا حکومت کا 900ارب روپے کا بجٹ پیش( سیاحت کے منصوبے شروع ،تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ)

0
36

خیبرپختونخوا حکومت کا 900ارب روپے کا بجٹ پیش( سیاحت کے منصوبے شروع ،تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ)

خیبرپختونخوا کے بجٹ 2019-20ء میں قبائلی اضلاع کیلئے 162ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، بجٹ میں بڑے پیمانے پر ٹیکس بھی لگائے گئے ہیں،صوبائی وزرا کی تنخواہوں میں 12 فیصد کمی، سرکاری خرچ پر بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد کر دی گئی
سرکاری ملازمین گریڈ 1تا سولہ کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ کیاگیا،گریڈ سترہ ،اٹھارہ اور انیس کے سرکاری ملازمین کو ایڈ ہاک ریلیف الائونس کی مد میں پانچ فیصد اضافہ جبکہ گریڈ بیس،اکیس اور بائیس کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا
ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں نئے سیاحتی مقامات کی ترقی اور روڈز کیلئے ایک بلین روپے کی فراہمی اور شیخ بدین کے سیاحتی مقام تک رسائی کیلئے 150ملین مختص کئے گئے ہیں،۔صوبے بھر میں مختلف سیاحتی سرگرمیوں کیلئے تین سو ملین رکھے گئے ہیں

کولئی پالاس ،بٹ گرام ،ٹانک ،کوہستان اپر،شانگلہ،بونیر ،چترال اپر اور لوئر دیر ۔ہنگو،ٹانک،لکی مروت،صوابی ،چارسدہ،ملاکنڈ،ہری پور اور مانسہرہ کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز کی ترقی اور آرائش کیلئے تیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں

ضلع کوہستان میں پبلک پرائیویٹ موڈ کے تحت کورین ہائیڈرو اینڈ نیوکلیئر پاور کے ساتھ496 میگا واٹ،سپاٹ گاہ بالا کوٹ 310،ناران 388میگا واٹ کے منصوبوں کی تعمیر کا آغاز ۔لوئر دیر ،شانگلہ اور مانسہرہ میں ستر میگا واٹ کے پراجیکٹ مکمل کئے گئے

ملٹی گریڈ ٹیچنگ پر قابو پانے کیلئے 21000اساتذہ کی بھرتی کی جارہی ہے ۔ہر سکول میں چار اساتذہ پورا کرنے کیلئے کل 65000اساتذہ کی ضرورت ہے، کم از کم تین ہزار اے ایس ڈی اوز کی بھرتی جو کہ بطور ہیڈ ٹیچر کام کریں گے

پشاور( سرگرم بجٹ رپورٹ)خیبرپختونخوا حکومت نے سال 2019-20ء کیلئے 900ارب روپے کا سرپلس بجٹ پیش کر دیا تاہم اس بار بجٹ میں بڑے پیمانے پر ٹیکس بھی لگائے گئے ہیں ۔خیبرپختونخوا کے بجٹ 2019-20ء میں قبائلی اضلاع کیلئے 162ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔سرکاری ملازمین گریڈ 1تا سولہ کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ کیاگیا ہے ۔سیاحت ،تعلیم اور صحت میں مزید بڑے منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیاگیا ہے ۔319ارب روپے ترقیاتی بجٹ جو پنجاب سے صرف 31ارب کم ہے میں قبائلی اضلاع اور پسماندہ اضلاع میں اربوں روپے کے منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیاگیا ہے ۔منگل کے روز صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے خیبرپختونخوا کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ایوا ن کو بتایا کہ ہم حکومتی اخراجات پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔یہ اچھے وقتوں میں بھی ضروری ہوتا ہے مگر موجودہ معاشی حالات میں انتہائی ضروری تھا ۔ہم نے اپنی آمدن میں اضافے کا سفر شروع کر دیا ہے اور یہ ہماری خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے ۔ہم نے ترقیاتی بجٹ کا نہ صرف حجم بڑھایا ہے بلکہ تھرو فارورڈ میں بھی ریکارڈ کمی کی ہے ۔ہم نے حقیقی معنوں میں اپنی ترجیحات کا تعین کیا ہے اور ان شعبوں میں رقم مختص کی ہے جو صوبے کی معیشت کے لئے مفید ترین ہیں ۔ہم نے نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے ایک تاریخی پیکیج مختص کر کے ان اضلاع کے عوام سے اپنے کئے گئے وعدے کو پورا کیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ اپنی تنخواہوں میں دس فیصد کمی کرے گی ۔سپیکر ،وزیراعلیٰ محمود خان اور صوبائی کابینہ اپنی تنخواہوں میں بارہ فیصد کمی کا اعلان کرتی ہے ۔آج کل کے معاشی حالات میں گریڈ بیس،اکیس اور بائیس کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ۔اسی طرح ایسے سول سرونٹس جو کسی بھی اضافی الائونس والی پوزیشن پر پوسٹڈ ہیں ان کی بھی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہو گا البتہ ہم گریڈ سترہ ،اٹھارہ اور انیس کے سرکاری ملازمین کو ایڈ ہاک ریلیف الائونس کی مد میں پانچ فیصد جبکہ گریڈ سولہ اور اس کے نیچے کے سرکاری ملازمین کو اسی مد میں دس فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہیں ۔اخراجات میں کمی کے یہ اقدامات ضروری ہے بلا شبہ زیادہ تنخواہ تو ہر کوئی چاہتا ہے اور انشاء اللہ ایسا وقت دور نہیں جب سب کو تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ مل سکے گا ۔ان مشکل حالات میں ایسے پیسے پر پہلا حق ہمارے ہزاروں دیہات میں رہنے والے ان غریب لوگوں کا ہے جن کے پاس ایک مستقل نوکری نہیں ۔وہ لوگ جن کو پاس پینے کا صاف پانی چاہیے جن کو روڈ چاہیے اور اپنے بچوں کیلئے سکولز میں اضافی استاد سمیت بی ایچ یو میں دوائی چاہیے ۔ہم ان لوگوں کے مسائل نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ہم نے مجموعی حکومتی اخراجات میں کمی لانے کیلئے سخت محنت کی ہے ۔اس کیلئے ہمیں ہر محکمے کے جاری اخراجات کا ڈیپارٹمنٹ بائی ڈیپارٹمنٹ اور لائن بائی لائن جائزہ لینا پڑا ۔جاری اخراجات میں Settled Districtsمیں خاطر خواہ کمی کی گئی ہے ۔95ارب روپے بچا کر ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیاگیا ۔ایسی کاوش ضروری تھی کیونکہ Settled Districtsکے جاری اخراجات میں تشویشناک اضافہ ہورہا تھا ۔میرے لئے جو چیز زیادہ اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ ابھی یہ صرف آغاز ہے ۔اگلے سال اس سے بھی زیادہ کریں گے ۔صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس بچت میں اضافے کا ایک ہم جز ریٹائرمنٹ قوانین میں ترمیم ہے کابینہ نے ریٹائرمنٹ کی عمر کو 63سال کرنے اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ کیلئے پچیس سال کی روس یا 55سال کی عمر جو بھی بعد میں آئے کی تجویز منظور کرلی ہے ۔ریٹائرمنٹ کی عمر کا ہمیشہ سے Life Expectancyسے تعلق رہا ہے ۔مثلاً 1947میں Life Expectancy45سال اور ریٹائرمنٹ کی عمر پچاس سال تھی ۔1973میں Life Expectancy 45سال اور ریٹائرمنٹ کی عمر 55سال تھی اب تو Life Expectancy 67سال ہے لیکن 46سال سے ریٹائرمنٹ کی عمر نہیں بڑھی ۔یہ قدم تو بہت پہلے اٹھا لینا چاہیے تھا مجھے خوشی ہے کہ خیبرپختونخوا اس کو لینے والا پہلا صوبہ ہے ۔یہ فیصلہ راتوں رات نہیں کیاگیا ریسرچ کی گئی ماہرین سے بھی مشورہ لیا گیا اور ساری دنیا اس طرف جا رہی ہے ۔اس سے ہر سال اندازاً 20ارب روپے کی بچت ہو گی ۔ہر سال ہزاروں لوگ قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر پوری پنشن بھی لیتے ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر سے دوسری تنخواہ بھی لیتے ہیں ۔یہ آپ کا پیسہ ہے عوام کا پیسہ ہے کیا یہ اس کا صحیح استعمال ہے ۔دو مزید چیزوں کی بات کرنا چاہوں گا ۔اول نوجوانوں کیلئے پیغام ہے کہ اس فیصلے سے روزگار کے نئے مواقع کم نہیں ہونگے ۔65لاکھ کی لیبر فورس میں صرف دس ہزار لوگ ریٹائرڈ ہوتے ہیں جو 0.1فیصد ہے اور ہر سال یہ پوسٹیں خالی رہتی ہیں ۔نئی ریکروٹمنٹ نئی پوسٹ پر ہوتی ہیں ۔انشاء اللہ اگلے مالی سال میں ہم ریکارڈ بھرتی کریں گے ۔تیس ہزار افراد کو Settledاضلاع ،سترہ ہزار افراد کو قبائلی اضلاع میں اور اس رقم سے پرائیویٹ سیکٹر میں چالیس سے پچاس ہزار نوکریاں پیدا کریں گے ۔اسی طرح کسی کی پروموشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ہم پروموشن کے قوانین پر بھی کام کریں گے ۔یہ ایک ایسے نئے کلچر کے آغاز کی بھی ابتداء ہے جہاں ہر فرد کی خواہش صرف سرکاری نوکری کے حصول تک محدود نہ ہو۔ دنیا کا کوئی ملک پرائیویٹ سیکٹر کی Involvementکے بغیر ترقی نہیں کر سکتا ۔اس تبدیلی کا آغاز بھی خیبرپختونخوا سے ہو گا ۔انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر میں مزدوروں کی معاشی ضمانت کیلئے کم از کم اجرت پندرہ ہزار روپے سے بڑھا کر سترہ ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ وسائل پیدا کئے بغیر کوئی ملک اپنی ترقی کے لئے درکار ترقی نہیں کر سکتا ۔پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ،ڈی ،پی شرح کم یعنی صرف 12.9فیصد ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تیس فیصد سے اوپر ہے ۔بھارت میں یہ شرح اٹھارہ فیصد ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تیس فیصد سے اوپر ہے ۔پچھلے سال ہم نے خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی میں اصلاحات کی ابتداء کی ۔صرف گیارہ ماہ کے قلیل عرصے میں KPRA کی Non – Telecom Sectorسے حاصل ہونے والی محصولات پچھلے سال کے مقابلے میں 49فیصد بڑھ گئیں لیکن یہ کافی نہیں ۔اس لئے 2019-20کیلئے ہم نے صوبے کے اپنے محصولات کا ہدف53.4ارب روپے متعین کیا ہے جو کہ اس سال کی پرفارمنس سے 54فیصد زیادہ ہے ۔سال 2023تک ہم اپنے محصولات کا ہدف سو ارب متعین کر رہے ہیں جو کہ موجودہ محصولات سے تین گنا زیادہ ہے اور یہ ہم ٹیکس بیس کو بڑھا کر کریں گے ۔درحقیقت ہم بہت ساری جگہوں میں ٹیکسز میں کمی کر رہے ہیں ۔مثلاً KPRA کے لئے ہم کل 58 Taxable Servicesمیں اٹھائیس ٹیکسز 15%کے سٹینڈرڈ ٹیکس ریٹ سے کم ریٹ پر رکھ رہے ہیں ۔(ریسٹورنٹ،شادی ہالز،پراپرٹی ڈیلرز،الیکٹرانک میڈیا،کال سنٹرز،بیوٹی پارلرز،جمز ،رائیڈ ہیلنگ سروسز وغیرہ ۔ہم باقی سیکٹرز میں بھی جہاں جہاں ضروری ہے ٹیکسز اور فیس میں کمی کر رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں سروسز کی فیس میں کمی کر کے اسے پنجاب کے برابر لا رہے ہیں ۔ترقیاتی بجٹ کے حجم و وسعت میں اضافے سے متعلق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ اس سال کے شروع میں ہمارے لگائے ہوئے اندازوں سے واضح ہو رہا تھا کہ اگر بروقت اصلاحات نہ کی جائیں تو ہمارا ترقیاتی بجٹ بشمول بیرونی امداد ،جاری سال کے مقابلے میں 36فیصد کم ہو کر صرف 119ارب روپے ہوتا ۔اگر ایسا ہو جاتا تو چھ سال کا تھرو فارورڈ دس سال سے بھی بڑھ جاتا ۔ہم نے نا صرف 95ارب روپے کی بچت ترقیاتی بجٹ کی طرف منتقل کی بلکہ 1380پراجیکٹس Settled Districts کیلئے تھرو فارورڈ کو203ارب روپے کم کیا ۔آج 190ارب روپے کے نئے پراجیکٹس کے اضافے کے باوجود تھرو فارورڈ صرف 3.9سال ہے ۔ہم نے پراجیکٹ کی Difinitionبھی تیدل کی ۔کیا زمین،آفس اور گاڑیوں پر خرچ کرنا عوامی فلاح ہے ۔ہم نے ایسا خرچہ بہت حد تک ختم کر دیا ہے ۔اسی طرح قبائلی اضلاع کا اے ڈی پی ملا کر کل 319ارب روپے کا اے ڈی پی کسی انقلاب سے کم نہیں ہے ۔اسی طرح کافی عرصے سے ہم Fixed Percentageسے ہر ڈیپارٹمنٹ کیلئے فنڈز کا تعین کرتے رہے ہیں جو کہ درست نہیں ہے ۔اس سال ہم نے ترجیحات کی بنیاد پر فنڈنگ کی ہے ۔تعلیم اور صحت بڑی ترجیحات ہیں ۔روڈز اور واٹر ڈیپاٹرمنٹ بجٹ میں زیادہ سپینڈنگ والے سیکٹر زرہے ہیں ۔بیان کئے گئے سیکٹرز کے علاوہ اضافی بجٹ ان سیکٹرز کو دیا گیا ہے ۔سپورٹس اور ٹوررازم یوتھ کا ترقیاتی بجٹ 5.9ارب کیاگیا ہے جو کہ 136فیصد اضافہ ہے ۔اربن ڈیپارٹمنٹ کے لئے 6.7بلین رکھے گئے ہیں جو کہ 67فیصد اضافہ ہے ۔زراعت کیلئے 4.2بلین رکھے گئے ہیں جو 63فیصد اضافہ ہے ۔اسی طرح سائنس ،ٹیکنالوجی اور آئی ۔ٹی کے لئے 64کروڑ رکھے گئے ہیں جو کہ 62فیصد اضافہ ہے ۔فارسٹری کیلئے 4.8بلین رکھے گئے ہیں جو کہ 43فیصد اضافہ ہے ۔انڈسٹری کیلئے 1.5بلین رکھے گئے ہیں جو چالیس فیصد اضافہ ہے ۔ہائیر ایجوکیشن کیلئے 5.7بلین رکھے گئے ہیں جوچالیس فیصد اضافہ ہے ۔اس کے علاوہ پہلی بار صوبے کے پسماندہ ترین اضلاع کیلئے 1.1بلین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ان اضلاع میں کوالٹی پالیس ،بٹ گرام ،ٹانک ،کوہستان اپر،شانگلہ،چترال ،اپر دیر اور ھنگو شامل ہیں ۔قبائلی اضلاع کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے حوالے سے تیمور تسلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے ایک سال کل بجٹ 55ارب روپے سے بڑھا کر 462ارب روپے کر دیاگیا ہے ۔اس میں دس سالہ ترقیاتی پلان کیلئے 83ارب روپے شامل ہیں۔ چوبیس ارب روپے 17000آسامیوں اور لیویز اور خاصہ دار کی ریگولرائزیشن کیلئے رکھے گئے ہیں ۔اسی طرح 49ارب روپے کا اے ڈی پی میں اضافہ جو کہ کل 83ارب روپے بن جاتا ہے ۔مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ خیبرپختونخوا نے گیارہ ارب روپے دے کر فیڈرل گورنمنٹ نے 72ارب اضافی روپے دے کر ،این ایف سی کا تین فیصد حصہ دینے کا وعدہ پورا کر دیا ہے ۔میں آرمڈ فورسز کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے رضا کارانہ طور پر اپنے بجٹ کو کم کر کے ٹرائبل ڈسٹرکٹس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ۔یہ وہ جذبہ ہے جو پاکستان کی پہچان ہے ۔انہوں نے کہا کہ این ایچ پی کے پرانے مسئلے پر مختصر بات کرنا چاہتا ہوں ۔یہ صوبہ ملک کو سستی بجلی فراہم کر رہا ہے ۔Constitutionکے آرٹیکل 161اور اس کے تحت اے جی این قاضی فارمولہ میں صوبے کو بجلی کے منافع پر حق دیتا ہے ۔یہ مناسب وقت ہے کہ اس ایشو کو ہمیشہ کیلئے حل کیا جائے ۔ہم پرائم منسٹر ،منسٹر پاور اور فیڈرل گورنمنٹ کو ریکوسٹ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں ۔ہماری تین درخواستیں ہیں ۔ہمیں 34.5ارب روپے کے این ایچ پی کے بقایاجات ادا کئے جائیں ۔ہمیں این ایچ پی ماہوار ٹرانسفر کئے جائیں اور ہمیں اے جی این قاضی فارمولہ کے مطابق پے منٹ کی جائے ۔محصولات اور اخراجات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 453.2ارب روپے فیڈرل ٹیکس Assinments،54.5ارب Divisible Poolکی 1فیصد اور آن ٹیرر کی مد میں ،25.6ارب روپے تیل اور گیس کی رائلٹی اور سرچارج میں ،21.2ارب روپے بجلی کے خالص منافع کی مد میں ،34.5ارب روپے این ایچ پی کے بقایاجات ،53.4ارب روپے صوبائی ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات ،82ارب روپے فارن پراجیکٹس Assistanceکی مد میں ۔24.7ارب روپے دیگر ذرائع سے حاصل ہوں گے ۔قبائلی اضلا ع کی گرانٹ کیلئے 151ارب روپے ۔اسی طرح کل محصولات 900ارب روپے ہیں ۔اخراجات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ Settled اضلاع کیلئے 256ارب روپے ،تنخواہیں 256ارب روپے،پنشن 69.9ارب روپے ،ڈسٹرکٹ نان سیلری اور O&M Contingency 93.5ارب روپے ۔دیگر جاری اخراجات 37.6ارب روپے ۔صوبائی ترقیاتی پروگرام 46ارب روپے ۔فارن ڈویلپمنٹ Assistance 82ارب روپے اور ٹوٹل 693ارب روپے بنتے ہیں ۔اسی طرح ضم شدہ اضلاع کیلئے بشمول صوبے کی طرف سے دیئے گئے گیارہ ارب روپے جاری اخراجات 79ارب روپے ،ترقیاتی اخراجات 83ارب روپے ،ٹوٹل 162ارب روپے ۔سرپلس 45ارب روپے ،کل اخراجات 900ارب روپے ۔صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے Settled اضلاع میں جاری اور ترقیاتی اخراجات کے بارے میں بتایا ۔انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات کی بہتری کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں ۔اس سال کے آخر تک صحت انصاف کارڈ کو صوبے کے تمام خاندانوں تک وسعت دیکر پختونخوا یونیورسل ہیلتھ کورج دینے والا پہلا صوبہ بن جائے گا ۔مزید یہ کہ تمام سرکاری ملازمین بھی اس بہترین پروگرام میں شامل ہو سکتے ہیں ۔اعلیٰ معیار کے ہسپتالوں مثلاً پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ،ایچ ایم سی،ایل آر ایچ،کے ٹی ایچ ،نسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز،سیدو ہسپتال ،فائونٹین ہائوس پشاور اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کیلئے ترقیاتی اور جاری اخراجات کی مد میں سات ارب روپے سے زائد کے فنڈز رکھے گئے ہیں ۔صحت کی بنیادی اور ثانوی سہولیات کیلئے ادویات کا بجٹ پچاس کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب روپے کر دیاگیا ہے ۔غریب کینسر مریضوں کے علاج کیلئے 82کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔4.4ارب روپے صحت کے مختلف اور حفاظتی پروگرام پر خرچ ہونگے ۔صحت کی سہولیات کی فراہمی کا پیکیج تمام بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز اور ثانوی ہسپتالوں تک پھیلایا جائے گا ۔صوبے بھر کے صحت کے مراکز اور میڈیکل کالجز کیلئے نئے اور جاری منصوبے اے ڈی پی میں شامل کئے جائیں گے ۔بہتر ہنگامی خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں ریسکیو1122سروسز کو تمام صوبے تک پھیلانے کے پروگرام کے تحت چار نئے اضلاع لکی مروت،ملاکنڈ ،شانگلہ اور لوئر دیر تک توسیع دی جائے گی جس میں ہزار نئی آسامیاں رکھی جارہی ہیں ۔اسی طرح 28000سکولو ں کوبہتر بنایا جائے گا ۔اب ہماری توجہ عمارات بنانے کے بجائے سکولوں اور بچوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے پر ہے ۔ملٹی گریڈ ٹیچنگ پر قابو پانے کیلئے 21000اساتذہ کی بھرتی کی جارہی ہے ۔ہر سکول میں چار اساتذہ پورا کرنے کیلئے کل 65000اساتذہ کی ضرورت ہے ۔مطلوبہ سات ہزار اے ایس ڈی اوز میں سے کم از کم تین ہزار اے ایس ڈی اوز کی بھرتی جو کہ بطور ہیڈ ٹیچر کام کریں گے ۔اس سے فی اے ایس ڈی اوز 45سکولوں کی موجودہ اوسط کم ہو کر تین سکول فی اے ایس ڈی اوز ہو جائے گی ۔اچھی یونیورسٹیز کے گریجویٹس کو سکولوں میں لانے کیلئے پختونخوا دو پارا پروگرام کا آغاز کیا جارہا ہے ۔دس ہزار میں سے سات سو جدید پری سکول ای سی ای نرسری کلاس رومز کی تکمیل ۔کلاس رومز میں طلباء کا رش کم کرنے کیلئے 15000مطلوبہ کلاس رومز میں سے چھ ہزار نئے کلاس رومز کی تعمیر ۔طالبات کو اعزازیہ دینے کیلئے 1.86ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔مردان میں وویمن کیڈٹ کالج کے لئے پچاس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔کالجز اور یونیورسٹیز کی ترقی کے حوالے سے صوبائی وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر یونیورسٹی اچھی بنے اور ہر کالج اچھا رزلٹ دے ۔صوبے کی بیس سے زائد یونیورسٹیز کیلئے 2.5ارب روپے فراہم کئے گئے ہیں ۔ہری پور میں Pak Austrian Fachhochshule Instituteکے لئے ایک ارب روپے کی فراہمی جو کہ 2020سپرنگ میں کام شروع کرد ے گا ۔مردان کی عبد الولی خان یونیورسٹی کی بہتری کیلئے پچاس کروڑ روپے ،زمین کی خریداری اور کرک پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کی تعمیر کیلئے بیس کروڑ روپے ،55کالجز کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کے لئے دو ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پبلک لائربریز کے لئے تین کروڑ پچاس لاکھ روپے رکھے گئے ہیں ۔ہندکو اکیڈمی کیلئے دو کروڑ روپے مختص ہیں ۔تیمور سلیم جھگڑا نے مزید کہا کہ رش کئی اکنامک زون کی تیز رفتار ڈویلپمنٹ کیلئے فنڈز فراہم کئے گئے ہیں ۔نوجوانوں،خواتین اور دیگر Enterpreneursکے جدید پروگراموں کیلئے دو ارب روپے کی فراہمی ۔KP Impact Challenge Phase 2کیلئے دو ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ایس ایم ای کے لئے Access To Finace Fundکی مد میں ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔بیس کروڑ روپے کی لاگت سے Skill Development Fundکا قیام تاکہ ملک کے بہترین اداروں سے ٹرینگ حاصل کرکے روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکیں ۔مختلف یوتھ ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کیلئے پچاس کروڑ روپے کی فرہمی ،TEVTAکے تحت اداروں میں کم از کم دس پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپس ،دس کروڑ روپے کی لاگت سے بونیر میں ماربل سٹی کا قیام ۔کھیل اور سیاحت کے فرو غ کے حوالے سے بجٹ میں خصوصی طور پر رقوم مختص کی گئی ہیں ۔صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے کائٹ پروگرام کے تحت سیاحت کے فروغ اور نئے مقامات کی ترقی کیلئے 3.7بلین روپے کا مصنوبہ ہے ۔ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں نئے سیاحتی مقامات کی ترقی اور روڈز کیلئے ایک بلین روپے کی فراہمی اور شیخ بدین کے سیاحتی مقام تک رسائی کیلئے 150ملین مختص کئے گئے ہیں ۔صوبے بھر میں مختلف سیاحتی سرگرمیوں کیلئے تین سو ملین رکھے گئے ہیں۔ 500ملین کی لاگت سے 1000کھیلوں کی سہولیات کا قیام ۔صوبے میں سات سپورٹس کمپلیکس کے قیام اور اپ گریڈیشن کیلئے 350ملین کی فراہمی ۔تمام صوبے میں ہاکی اور سکواش کی ترقی کیلئے ستر ملین مختص کئے گئے ہیں ۔اسی طرح ٹورراز پولیس کا قیام بھی عمل میں لایاگیا ہے ۔شہرو ں اور دیہاتوں کی ترقی کے حوالے سے صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ کا 30فیصد یعنی 46ارب روپے برائے منتخب لوکل باڈیز ہے ۔پشاور کیلئے خصوصی ترقیاتی بجٹ مختص کیاگیا ہے ۔ڈبلیو ایس ایس پی کو دوسری شف سنڈے آپریشن اور مضافاتی علاقوں تک اپنے آپریشن کی توسیع کیلئے جاری اور ترقیاتی بجٹ میں سے دو ارب روپے دیئے جائیں گے ۔پشاور کی ترقی خاص کر رنگ روڈ تعمیر،نئے بس سٹینڈ ،پشاور اپ لفٹ پروگرام اور ریگی ماڈل ٹائون کیلئے 4.5ارب روپے رکھے جائیں گے ۔کم ترقی یافتہ یا پسماندہ اضلاع کی ترقی کے پروگرام کے تحت 1.1ارب روپے ،کولئی پالاس ،بٹ گرام ،ٹانک ،کوہستان اپر،شانگلہ،بونیر ،چترال اپر اور لوئر دیر ۔ہنگو،ٹانک،لکی مروت،صوابی ،چارسدہ،ملاکنڈ،ہری پور اور مانسہرہ کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز کی ترقی اور آرائش کیلئے تیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔تورغر کیلئے خصوصی ڈویلپمنٹ پیکیج کے تحت چالیس کروڑ روپے ،خیبرپختونخوا سٹیزڈیجیٹل ٹرانسفارمیشنل سنٹرز کیلئے پچاس کروڑ روپے ،مخصوص اضلاع کی ترقی کیلئے ان کو ٹوبیکو ڈویلپمنٹ سیس ،این ایچ پی اور تیل اور گیس کی رائلٹی کی ادائیگی کی مد میں 6.3ارب روپے کی فراہمی ،جنوبی علاقوں کی ترقی کے پراجیکٹ ایس اے ڈی پی کیلئے ساٹھ کروڑ روپے ،ای یو کے تعاون سے کے پی ڈسٹرکٹ گورننس اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے 3.4ارب روپے ،یو ایس ایڈ کے تعاون سے میونسپل سروسز ڈیلوری پراجیکٹ کے لئے 1.5ارب روپے ،پبلک پارکس کی تعمیر کے لئے 14کروڑ پچاس لاکھ روپے رکھے گئے ہیں ۔اسی طرح 8.6ارب روپے برائے صوبائی روڈز کی بحالی کے پراجیکٹ کے لئے جو کہ پی کے ایچ اے کے ذریعے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا ۔3.4ارب روپے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے مردان صوابی روڈ کو دورایہ بنائے جانے کے لئے ،Settledاضلاع میں نئے سڑکوں کی تعمیر کے لئے 10.4ارب روپے ،Settled ڈسٹرکٹ میں بنیادی مراکز صحت ،سکولز اور چار ہزار مساجد کو شمسی توانائی پے منتقل کرنے کیلئے 1.2۔ضلع کوہستان میں پبلک پرائیویٹ موڈ کے تحت کورین ہائیڈرو اینڈ نیوکلیئر پاور کے ساتھ496 میگا واٹ،سپاٹ گاہ بالا کوٹ 310،ناران 388میگا واٹ کے منصوبوں کی تعمیر کا آغاز ۔لوئر دیر ،شانگلہ اور مانسہرہ میں ستر میگا واٹ کے پراجیکٹ مکمل کئے گئے ۔ای گورننگ کے لئے کروڑوں روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ گرین گروتھ کے لئے 2.8ارب روپے ٹین بلین ٹری پراجیکٹس مختص کئے گئے ہیں ۔ابپاشی ،عدم مساوات ،قبائلی اضلاع میں تعمیرات اور دس سالہ ترقیاتی منصوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 59ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جنہیں صحت ،تعلیم اور روزگار پر خرچ کیا جائے گا ۔قبائلی اضلاع کے صحت کے مراکز میں سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کیلئے بھرتیاں کی جائیں گی جبکہ صحت ،تعلیم کے منصوبوں پر کام کیا جائے گا ۔ہمارا بجٹ تسلسل کے لئے تھا اور یہ آئندہ بھی ہو گا ۔قبائلی اضلاع کے ذمہ داری پاکستان کی سب ے اہم ذمہ داری ہے ۔ہمت اور بہادری کے ساتھ اگر ہم ان پر عمل کریں تو یقین کر لیں کہ ہم آسمان کو چھو سکتے ہیں ۔

کوئی تبصرہ نہیں