سکھوں کے مقدس مقام کرتار پور کو انڈیا میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

0
77

کیا یہ ممکن ہے کہ سکھ کے لیے مقدس کرتار پور گوردوارہ پاکستان کسی اور جگہ زمین کے بدلے انڈیا کو دے دے؟

حال ہی میں پاکستان کی طرف سے انڈیا میں بسنے والے سکھوں کے لیے کرتار پور تک ایک راہداری کھولنے کے فیصلے کے بعد انڈین پنجاب میں ایک نئی بحث نے چھڑ گئی ہے۔

انڈیا کی ریاست پنجاب کی حکومت نے سکھوں کے لیے اس مقدس مقام کو انڈیا میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

پنجاب کی ریاستی اسمبلی نے جمعے کو ایک قرار داد میں پاکستان کی طرف سے راہداری کھولنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کرتار پور کے عوض پاکستان کو زمین دے کر یہ تاریخی گرودوارہ انڈیا میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔

یہ تجویز پنجاب کی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کر لی گئی اور اس کے بعد اسے مرکزی حکومت کو بھیج دیا گیا۔

کرتار پور راہداری پر بحث کے دوران یہ تجویز پیش کی گئی کہ اگر پاکستان کرتار پور صاحب کا گرودوارہ انڈیا کو دینے پر تیار ہو جائے تو اس کے بدلے اسے زمین دی جا سکتی ہے۔

پنجاب کی ریاستی کابینہ کے رکن سکھجندر سنگھ رندھاوا نے بی بی سی پنجابی سروس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ زمین کے بدلے زمین کی بات سنہ 1969 میں بھی چلی تھی لیکن سنہ 1971 کی جنگ کی وجہ سے یہ آگے نہیں بڑھ سکی۔

سکھجندر سنگھ رندھاور نے کہا کہ زمین کے بدلے زمین کی تجویز پنجاب اسمبلی نے منظور کر کے مرکزی حکومت کو بھجوا دی ہے اور اب یہ انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں پر منحصر ہے کہ وہ اس بارے میں کیا فیصلہ کریں۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ نے کرتار پور راہداری کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن کا پل قرار دیا۔

گو اس سے قبل وہ راہداری کھولنے کے پاکستان کی حکومت کے فیصلے کو آئی ایس آئی کی سازش قرار دے چکے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ یہ پاکستانی فوج کی چال تھی جس میں نوجوت سنگھ سدھو بھی آ گئے۔
کرتارپور راہداری کی تعمیر کے آغاز کی تقریب میں شرکت کی دعوت پر نوجوت سنگھ سدھو نے لاہور پہنچنے پر کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان نے یہ بیج بویا جس سے نئی امید اور ترنگ کا پودا اُگا ہے۔’
کرتار پور راہداری کھولنے پر انڈیا کی حکومت کا اچانک تیار ہو جانا بھی بہت حیران کن تھا۔ اس فیصلے کے بعد انڈیا میں گرداس پور کے ضلع میں ڈیرہ بابا نانک سے کرتار پور تک چار کلو میٹر طویل راہداری تعمیر کرنے کا کام شروع ہوا۔

اس راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے سے چند دن قبل کراچی میں چینی قونصلیٹ پر دہشت گردی کا حملہ ہوا جس کی ذمہ داری پاکستان میں کئی حکومتی وزرا نے انڈیا پر ڈالی۔انڈیا بھی پاکستان پر دہشت گردی کرنے کے الزامات عائد کرتا رہتا ہے۔

پاکستان نے کرتار پور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی مدعو کیا تھا لیکن انھوں نے اس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔

سکھوں کے عقائد کے مطابق سکھ مت کے بانی بابا گرو نانک سنہ 1522۔ میں کرتار پور آئے تھے اور انھوں نے اپنی زندگی کے آخری اٹھارہ سال یہیں بسر کیے۔

باب گرو نانک نے جس جگہ اپنی آخری سانسیں لی تھی عین اسی جگہ گرودوارہ تعمیر کیا گیا جو پاکستان اور بھارت کی موجودہ سرحد سے صرف ساڑھے چار کلو میٹر دور ہے اور سرحد کے پار بسنے والے بہت سے عقدیت مند سرحد پار اس کے درشن کرتے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے اس جگہ تک راہداری تعمیر کرنے کے فیصلے کے بعد ان سکھ عقدیت مندوں کو بغیر ویزا کے یہاں تک رسائی حاصل کرنا ممکن ہو سکے گا۔

بی بی سی

کوئی تبصرہ نہیں