اللہ تعالی ٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے ۔یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اسکے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ غصہ ایک منفی جذبہ ہے جس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو ہم اکثر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کر بیٹھتے ہیں اس لیے اسلام نے غصہ ضبط کرنے اور جوشِ غضب کے وقت انتقام لینے کی بجاے صبرو سکون سے رہنے کی تلقین کی ہے تا کہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو اور امن کا گہوارہ بن سکے۔

جامع ترمذی کی ایک حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا  جن لوگوں کو غصہ نہیں آتا اور جو اپنے غصے پر قابو پا لیتے ہیں میرے نزدیک اس نے اپنی زندگی جیت لی وہ جیسے چاہئے اپنی زندگی کو اپنے طور پر گزار سکتا ہے دنیا میں دو لوگ کامیاب زندگی گزارتے ہیں ایک جو صبر کرتے ہیں اور دوسرا جن کے دل میں رحم ہوتا ہے جن میں یہ دونوں صفات نہ پائ جائیں وہ غصے میں نہ تو صبر کر پاتے ہیں اور نہ ہی کسی پہ رحم  اور نتیجتاً جذباتی اور غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں کیا آپ نے کبھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کی کیونکہ غصے میں انسان کو ہوش ہی نہیں ہوتا اپنے نفس پر قابو پانا سیکھئے خدا سے ڈریئے  اور اگر آپ کے کہئے ہوئے الفاظ سامنے والے کو برے لگے تو اور اس نے صبر کر لیا تو معاملہ پھر آپ کے اور خدا کے درمیان آ جائے گا کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے مجھے جب خود غصہ آتا ہے تو میں قابو نہیں رکھ سکتا لڑائ کے ساتھ ساتھ گالم گلوچ پر بھی اتر آتا ہوں میں نے گزشتہ 22 رمضان کو ایک خبر پڑھی اخبار میں پشاور میں ایک شخص نے رمضان میں اپنی 6 سالہ بھتیجی کو صرف اس بات پہ فائرنگ کر کے قتل کر دیا کے وہ سو رہا تھا اور بچی شور کر رہی تھی اس کے آرام میں خلل پڑ رہا ہو گا جس کا اتنا غصہ آیا اس کو کے اس نے پھول جسیی ننھی معصوم کلی کو چار گولیاں تک مار دیں اور اپنے لیے رحمتوں اور مغفرتوں کے مہینے میں ایک فرض کی تکمیل کرتے ہوئے جہنم خرید لی آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا یار مجھے غصہ بہت آتا ہے اپنے غصے پر قابو پانا بہت مشکل ہے میرے لئے۔ غصہ آگ ہے یہ دماغ سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تھوڑی دیر کیلئے چھین لیتا ہے غصے کا آغاز حماقت اور انجام پچھتاوا ہے غصے میں انصاف ہر گز نہیں ہو سکتا اور غصے میں کئے گئے فیصلے کبھی درست ثابت نہیں ہوتے یہ ہنستے بستے گھر اجاڑ کے رکھ دیتا ہے گھر میں کوی بے قاعدگی ہو جائے تو آپکو شدید غصہ آتا ہے اچھا خاصہ گھر پانی پت کا میدان بن جاتا ہے لیکن آپ اگر دفتر میں کوے غلطی کریں تو آپ کو جھاڑ پلائ جائے تو آپ برداشت کر لیتے ہیں اس انتہائ ناپسندیدہ صورتحال میں بھی آپ اپنے غصے پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس کا سیدھا اور صاف جواب یہی ہے کے غصہ آتا نہیں بلکہ کیا جاتا ہے غصہ آئے یہ کیا جائے دونوں صورتحال میں غصہ اچھی چیز نہیں ہے بزرگوں نے اس سے بچنے کی تلقین کی آدمی کس کس بات کا رونا روئے غصہ تو بہت ساری باتوں پر آتا ہے آج وطن عزیز میں بہت سے مباحث چل رہے ہیں بہت سے سقراط بقراط اور ارسطو اپنے نام نہاد زریں خیالات سے قوم کو نواز رہے ہیں لیکچر پہ لیکچر دئے جا رہے ہیں الکٹرانک میڈیا پہ لمبی لمبی تقریریں کی جاتی ہیں دانشوریاں بکھیری جاتی ہیں پاکستان کی زبوں حالی پر مگر مچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں اس کی ترقی کے حوالے سے اپنے سستے جذبات کی تشہیر کی جاتی ہے ان لوگوں کی باتیں سن کر یہ محسوس ہوتا ہے کے پاکستان اور اس کی مظلوم عوام کے غم میں یہ بے چارے گھلے جا رہے ہیں اور ان کے شب وروز اسی سوچ میں گزرتے ہیں کبھی غور کیجئے کتنے لوگ جن کے پاس وسائل بھی ہیں اقتدار بھی ہے اگر وہ پسماندہ  عوام کی بہتری کیلئے کچھ کرنا چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں چند ماہ پہلے ایک عالمی سروے  سے معلوم ہوا ہر تیسرا شخص ذہنی دباؤ کا شکار ہے  عالمی جذبات کی عکاسی کرنے والی گیلپ گلوگل ایموشنز  رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان زیادہ غصہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں دسویں نمبر پر آیا ہے یوں کہئے پوری قوم اس وبا میں مبتلا ہو چکی ہے نائ حلوائی قصائ نانبائی غرضیکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا نشے میں اپنے ہوش و حواس کھو چکا ہے کچھ لوگوں نے غصہ آنے کی ایک بڑی وجہ  ظلم اور ناانصافی کو قرار دیا ہے  یقینا  ہمارے  معاشرے میں جھوٹ کا چلن بہت عام ہو چکا ہے یہ ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑے بگاڑ اور بے برکتی کا سبب ہے ظالمانہ مناظر تو ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا سکہ تو یہاں خوب چلتا ہے ایک مشہور چینی کہاوت ہے ہم چھوٹے چوروں کو سزا دیتے ہیں اور بڑے چوروں کو سلام کرتے ہیں ہمارے ہاں بھی یہی دستور ہے قانون کی پکڑ صرف غریب کیلئے ہے بڑے چوروں کو ہماری جیلوں میں وہ سہولتیں میسر ہیں جس کا غریب آدمی اپنے گھر میں بھی نہیں سوچ سکتا کچھ لوگوں کو دوسروں کی بدتمیزی اور غیر ذمہ داری پر بھی غصہ آتا ہے لوگ گلیوں میں گندگی پھینک دیتے ہیں جس طرف نظر اٹھتی ہے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نظر آتے ہیں اگر کوئ روکنے یہ سمجھانے کی کوشش کریے تو تو آگے سے کہا جاتا ہے یار یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے یہ جملہ یقینا بہت زیادہ غصہ دلانے والا ہے ہم اپنے مادر وطن کی تحقیر ہر ہر وقت آمادہ نظر آتے ہیں اپنے پیارے وطن کی ہماری نظروں میں کوی وقعت ہوتی تو ہم ایسی بات کبھی بھی نہ کہتے معاشرتی اخلاقیات کا فقدان ہے بڑی بڑی شاہراوں پر ٹریفک پولیس کی موجودگی میں قانون توڑے جاتے ہیں مک مکا کی وجہ سے قانون کو کھیل سمجھا جاتا ہے قانوں کے رکھوالوں کی مٹھی گرم کرنے کا عام رواج ہے یہ سب وہ مذموم حرکتیں ہیں جنہیں دیکھ کر ہر شریف شہری کا خوں کھول اٹھتا ہے اس سب کچھ کے باوجود یہ بات بڑی خوش آئند ہے جنوبی ایشیا میں بسنے والے ایک ارب اسی کروڑ لوگوں میں سے ہم بائیس کروڑ پاکستانی سب سے ذیادہ خوش اور مطمئن ہیں اس خوشی اور اطمینان کی وجوہات میں سے ایک بہت بڑی وجہ اللہ کی ذات پہ مکمل یقین اور بھروسہ ہے

@saadakram_   twiter handle 

13501_8262848_3  I’d card
03005170196 📱
@Saadakrambalakot@gmail.com

کوئی تبصرہ نہیں