فضائی آلودگی پھیپھڑوں کو تیزی سے ’بوڑھا‘ کررہی ہے

0
4

لندن: ہم جانتے ہیں کہ جسم کے اعضا بھی جوانی سے بڑھاپے تک کا سفر کرتے ہیں اور یہ ایک قدرتی عمل ہے لیکن اب ماہرین نے خبردار کیا ہےکہ فضائی آلودگی سے پھیھپڑوں کی عمررسیدگی اور خرابی کا عمل تیز سے تیز ترین ہوجاتا ہے۔

سائنسدانوں نے ایک مطالعے کے بعد کہا ہے کہ اگر ایک شخص ایسی فضا میں ایک سال تک سانس لے جہاں ایک مربع میٹر میں 5 مائیکروگرام تک آلودگی کے ذرات ہوں تو اس سے ایک سال میں پھیپھڑے کو اتنا نقصان واقع ہوتا ہے جو طب کی زبان میں پھیپھڑوں کو مزید دوسال بوڑھا کردیتا ہے۔ اس طرح پھیپھڑوں کی افادیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔

فضائی آلودگی کی صورت میں ٹھوس اور مائع اجزا ہوا میں تیرتے رہتے ہیں۔ ان میں دھول، مٹی، کاربن، راکھ اور دیگر اقسام کے ذرات شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ رکازی ایندھن، کوئلے، گیس، گاڑیوں کے دھویں، کارخانوں اور تعمیرات سے بھی پیدا ہوتے ہیں۔
اگر کوئی ایسی جگہ رہ رہا ہے جہاں فی مربع میٹر 10 مائیکروگرام ذرات ہوں تو اس کا نقصان دوگنا ہوگا۔ ایسی جگہوں پر سانس کا مرض یا سی او پی ڈی عام حالات سے چار گنا زائد ہوسکتا ہے۔ ایسے مقامات کے رہائشی سانس کی تنگی اور سینے کی جکڑن کی شکایت کرتے ہیں۔

یہ سروے برطانیہ میں ہوا ہے اور جہاں ایک ڈیٹا بیس سے تین لاکھ افراد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مطالعے میں شامل خواتین و حضرات کی سانس کی کیفیت اور دیگر ٹیسٹ لیے گئے تھے جس میں 2006 سے 2010 تک چار سال کا عرصہ لگا۔ اس میں لوگوں کے پیشے اور آلودگی میں گزارے گئے وقت کی تفصیلات کو بھی شامل کیا گیا۔

یونیورسٹی آف لیسیٹر کی ماہرِ ماحولیات اینا ہینسل نے یہ تحقیق کی ہے جو کہتی ہی کہ فضائی آلودگی سے پھیپھڑوں کی صلاحیت دوگنی متاثر ہوتی ہے اور سی او پی ڈی کا خطرہ تین گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہ کیفیت غریب اور کم ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ دیکھی گئی ہے۔

کوئی تبصرہ نہیں