کام نہ کرنے والےوزیراور بیوروکریٹس نکال دیں، وزیرعظم

0
216

پشاور وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پختونخوا کے کام نہ کرنے والے بیوروکریٹس کو نکال دیں ، ایسےوزرا بھی گھر جائیں گے، پھر کوئی نہ کہے مجھے کیوں نکالا، اب ہمیں کسی فارورڈ بلاک کا ڈر نہیں،وزرا منتخب لوگ،کام نہیں کیا تو عوام ڈنڈے ماریں گے، بیورو کریسی کی سوچ ہے سرمایہ کاری اچھی چیز نہیں، ہمیں سرمایہ کاروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنی ہیں،مہمند ڈیم کی تعمیر سے خیبر پختونخوا میں پانی کا مسئلہ حل ہوجائیگا،شریف برداران نےقومی خزانے سے 40ارب35کروڑ اڑائے،عوام کے پیسے پر بادشاہت کا خاتمہ کررہے ہیں،جہاں امیر اورغریب میں فرق ہو وہ کیسے فلاحی ریاست بن سکتی ہے؟پنجاب کے وزیر اعلیٰ ایماندار،دلیر اور سادہ ہیں، ان کاکوئی کیمپ آفس ہے نہ پروٹول، مافیاز کیخلاف کھڑے ہیں، پختونخوا کے وزیر اعلیٰ بھی سچے انسان ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت

کے100روزہ پلان کے حوالے سے نشترہال پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان اور وزیر اعلیٰ محمود خان بھی موجود تھے، عمران خان نے کہاکہ وہ خیبر پختونخوا کے عوام کے مشکور ہیں جنہوں نے 2013میں تحریک انصاف کو اتحادی حکومت بنانے کا موقع دیا جبکہ 2018میں تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا حالانکہ خیبر پختونخوا کے عوام سیاسی شعور رکھتے ہیں اور کبھی کسی جماعت کو دوبارہ اقتدار میں آنے کا موقع نہیں دیا لیکن تحریک انصاف نے ماضی کی حکومتوں سے بہتر کارکردگی دکھائی اسلئے تحریک انصاف کو صوبہ میں دوبارہ حکومت بنانے کا موقع دیا، تحریک انصاف نے بھی روایتی سیاسی حربے استعمال کئے نہ ہی انتخابی مقاصد کیلئے اربوں روپے خرچ کئے، وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان کی ایمانداری پر پورا یقین ہے، وہ سادہ اورسچے انسان ہیں اور کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے جب ہم نے پنجاب میں عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنایا تو ہمارا مذاق اڑایا گیا، عثمان بزدار بھی ایماندار اور دلیر شخص ہیں، انہوں نے پیسے ضائع نہیں کئے، یہی اصل تبدیلی ہے کیونکہ ماضی میں حکمرانوں نے شاہ خرچیوں کے ذریعے خزانہ خالی کردیا پنجا ب میں تو 30سال سے بادشاہت قائم تھی، وزیر اعلیٰ وزیراعظم کا طیارہ استعمال کرتارہا سالانہ35کروڑ روپے اس پرپھونک ڈالے مگراب ایسا نہیں ہورہا ، وزیر اعظم عمران خان نے تمام وزراء کوہدایت کی کہ دفاتر میں باقاعدگی سے حاضری یقینی بنائیں کیونکہ کارکردگی مانیٹر ہوگی کل کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے کیوں ہٹایا، قوم کی نظریں آپ پر لگی ہیں، اسلئے مزیدتیز ی سے کام کرناہوگا جو وزیر شام تک دفتر میں نہیں بیٹھے گا اس کو ہٹایا جائیگا،آپ منتخب لوگ ہیں، اگرکام نہیں کیا تو لوگ آپ کو ڈنڈے ماریں گے، لوگ یہ نہیں سنیں گے کہ بیورو کریٹ نے کام نہیں کرنے دیا، اگر کوئی بیورو کریٹ رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے خلاف ایکشن لیں، اگر کوئی بیورو کریٹ کام نہیں کرتا تو اس کو نکال دیں۔ عمران خان نے کہاکہ ماضی میں چھوٹے طبقے کیلئے پالیسیاں بنتی رہیں، کسی نے نچلے طبقے کو اوپر لانے کیلئے نہیں سوچا، ملک میں امیر اورغریب میں فرق ختم ہونا چاہیے، جہاں امیر اورغریب میں فرق ہو وہ کیسے فلاحی ریاست بن سکتی ہے، حکومت کو ریکارڈ ملکی خسارہ ورثے میں ملا، بیوروکریسی کی سوچ ہے کہ سرمایہ کاری اچھی چیز نہیں، ہمیں سرمایہ کاروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنی ہیں،پاکستان میں دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں سب سے کم ٹیکس دیا جاتا ہے، 21 کروڑ پاکستانیوں میں 72 ہزار لوگ ماہانہ 2 لاکھ روپے کی آمدنی ظاہر کرتے ہیں، ایک وقت تھا کہ بیوروکریٹ کی ماہانہ تنخواہ سے 70 تولہ سونا خریدا جاسکتا تھا، میرے والد جب 1950 میں سرکاری نوکری میں آئے تو وہ ایک ماہ کی تنخواہ میں گاڑی خرید سکتے تھے لیکن اب وزیراعظم کو جو تنخواہ ملتی ہے اس سے میرا بنی گالہ کا خرچہ بھی نہیں نکل سکتا۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں غریب اور نادار مزدوروں کیلئے پناہ گاہ کا افتتاح کیا۔ وزیراعظم کو پناہ گاہ کے بارے میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ مرکزی شیلٹر ہوم بیس کمروں اور پانچ بڑے ہالوں پر مشتمل ہے مرکزی شیلٹر ہوم میں دو سو افراد کیلئے رہائش کی گنجائش ہوگی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ مرکزی شیلٹر ہوم میں تین کمرے فیملیز کیلئے مختص کئے گئے ہیں چار مختلف بس اڈوں کے قریب بھی سرکاری مہمان خانے بنائے گئے ہیں۔ چار شیلٹر ہومز میں مجموعی طور پر پانچ سو تک بے گھر افراد کو رہائش فراہم کی جائے گی۔شیلٹر ہوم کے افتتاح کے بعد وزیر اعظم نے گورنر ہاؤس میں فاٹا انضمام کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کی ، گورنر خیبر پختونخوا اور وزیر اعلیٰ کیساتھ ملاقات کی اسی دوران گورنر ہاؤس میں جمعہ کی نماز ادا کی ، بعد ازاں گورنر ہاؤس میں بھی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی ۔

جنگ

کوئی تبصرہ نہیں