کسٹمز کی جعلی دستاویزات پر اسمگلڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کا انکشاف

0
37

کراچی: محکمہ کسٹمزکی جعلی دستاویزات پر اسمگلڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کاانکشاف ہوا ہے۔

محکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن موٹر رجسٹریشن ونگ کے افسران اور کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ کی باہمی ملی بھگت سے پاکستان کسٹمز کے جعلی دستاویزات پر اسمگل شدہ گاڑیوں کی غیرقانونی رجسٹریشن میں ملوث عناصر کی نشاندہی پر پاکستان کسٹمز اپریزمنٹ ویسٹ کلکٹوریٹ نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

جن میں کلیئرنگ ایجنٹ میسرز ٹریڈ اینڈ ٹرانسپورٹ انٹرنیشنل کے مالک سید دانش فروز، اسمگلڈ گاڑیوں کے مالکان میں زاہد علی، قدیر شاہ، مظفر اقبال، محمدحسن الدین، محمد عثمان، زاہد علی، روزی خان، نادر خان، امجد علی، اویس محمود، امتیاز احمد، عطا نورالدین، صدام حسین، تعمیرحسین اور محمدشمشیرشامل ہیں جبکہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اینڈنارکوٹکس کنٹرول کراچی، پشاوراورسوات خیبربختونخوا کے اسٹاف کے خلاف بھی مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹ میسرز ٹریڈ اینڈ ٹرانسپورٹ انٹرنیشنل کی جانب سے ایکسائزاینڈٹیکیشن میں محکمہ کسٹمزکی جعلی دستاویزات پر 16اسمگل شدہ گاڑیوں کی رجسٹریشن کرائی گئی۔

جن میں 8ہینو ہیوی ٹرکس،مزدا ٹرک، لینڈکروزر جیپ اوربی ایم ڈبلیو کار شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ مذکورہ اسمگل شدہ گاڑیوں کی غیرقانونی رجسٹریشن سے قومی خزانے کو ڈیوٹی وٹیکسوں کی مد میں مجموعی طورپر 12کروڑ 99لاکھ 10ہزارروپے کا نقصان پہنچایاگیا۔ ذرائع نے بتایاکہ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ نے محکمہ کسٹمزکے جعلی دستاویزات بنانے کے لیے ون کسٹمز سسٹم میں ایک مخصوص آئی ڈی کے ذریعے پرال سسٹم سے اسمگلڈ گاڑیوں کی جعلی گڈز ڈیکلیئریشن بنائی گئیں اوربعدازاں انہی جعلی دستاویزات پر گاڑیوں کی کراچی اورپشاورمیں رجسٹریشن کرائی گئی۔

ذرائع نے بتایاکہ محکمہ ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے عملے نے متعلقہ کسٹمز کلکٹوریٹ سے تصدیق کرنے کے بجائے جعلی دستاویزات پر16گاڑیوںکی رجسٹریشن کردی۔ ذرائع کا کہناہے کہ کراچی اورپشاورکے محکمہ ایکسائز کی جانب سے ایک ہی چیسزنمبرFG1JHE-10156کے حامل 2 ہینوٹرکس کی رجسٹریشن کرائی گئی جس میں کراچی کی گاڑی کو JQ-1079اورپشاورکی گاڑی کو EA-6790 پر رجسٹرکیاگیا۔

کوئی تبصرہ نہیں