کشمیری عوام اتحاد و یکجہتی سے دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ رکھیں ،سردار مسعود خان

0
27

اسلام آباد( نیوز رپوٹر)آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیری عوام اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا کیس بین الاقوامی برادری کے سامنے موثر انداز میں پیش کریں اور ان کامیابیوں کو آگے بڑہائیں جو حالیہ عرصے میں قومی اور عالمی سطح پر تنازعہ کشمیر کے سلسلے میں حاصل ہوئیں ہیں۔ بھارت ظالم و جابر ہونے کے باوجود میڈیا کی طاقت سے کشمیریوں کو ظالم و دہشت گرد بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے جس کا موثر توڑ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک کشمیر برطانیہ اور یورپ مسئلہ کشمیر کو اس کے درست تاریخی تناظر میں پیش کرنے کے لئے جو کوششیں کر رہی ہیں اس کو لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیری تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جموں وکشمیر سالویشن موومنٹ کی جانب سے منعقدہ کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جموں وکشمیر ہائوس اسلام آباد میں ہونے والی اس کانفرنس سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما غلام محمد صفی، تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی جموں وکشمیر سالویشن موومنٹ کے صدر الطاف احمد بٹ، الطاف وانی، فیض نقشبندی، محمود ساغر اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی اور تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب کشمیریوں کی دوسری اور تیسری نسل کے نوجوانوں کشمیر کی تحریک حق خودارادیت کا حصہ بنانے کے لئے جو جدوجہد کر رہے ہیں وہ نہایت قابل قدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندی ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لئے موثر منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ بھارت کی حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں نے بھارت کے مسلمانوں، ریاست پاکستان اور جموں وکشمیر کے عوام کو اپنے نشانے پر رکھا ہے اور وہ تینوں کو اپنا دشمن گردان کر مقابلے کی تیاری کر رہے ہیں۔ مودی کے بر سراقتدار آنے کے بعد کشمیریوں کے علیحدہ سیاسی تشخص اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے آئین کے دفعہ 35اے کو منسوخ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ بھارت اگراس کوشش میں کامیاب ہو گیا تو یہ کشمیر پر بھارتی قبضہ کے بعد کشمیریوں کے حقوق پر دوسرا بڑا ڈاکہ ہو گا۔ کانفرنس میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد میںمقبوضہ جموں وکشمیر کے سیاسی رہنمائوں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور ان پر جیلوں میں تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس بہیمانہ عمل کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کے مختلف کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جن میں پرامن سیاسی سرگرمیوں کی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ کانفرنس کے شرکاء نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر کے تنازعہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لئے مذاکراتی عمل شروع کریں اور عالمی برادری، یورپین یونین اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ بھارت کو سیاسی رہنمائوں اور ان کے ہمدردوں کی اندہا دہند گرفتاریوں سے باز رکھنے کے لئے فوری مداخلت کریں۔ قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ 1990سے لے کر اب تک 90ہزار سے زیادہ کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں دوسرے شہریوں کو زخمی اور معذور کیا گیا جن کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے تھے۔

کوئی تبصرہ نہیں