کیا پنجاب کے لوگ اگلے سال بسنت منائیں گے؟ عمر دراز ننگیانہ

0
196

پتنگ بازی پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ قریباً ایک دہائی سے مسلسل پابندی کا شکار رہی ہے
پاکستان میں بسنت کا تہوار اور پتنگ بازی لازم و ملزوم ہو چکے ہیں۔ بسنت کا تہوار گذشتہ چند دہائیوں سے پتنگ بازی کے گرد ہی گھومتا رہا ہے یعنی پتنگ بازی نہیں تو کیا بسنت؟

پاکستان کے بڑے شہروں بالخصوص لاہور میں بڑے پیمانے پر منائے جانے کے بعد بسنت کے اس تصور نے نہ صرف پتنگ کی باقاعدہ صنعت کو جنم دیا بلکہ اس سے منسلک تفریح اور دیگر کاروبار بھی اس سرگرمی سے مستفید ہوتے تھے۔

تاہم دوسری جانب انسانی جان کے لیے خطرہ بن کر سامنے آنے کے باعث پتنگ بازی پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ قریباً ایک دہائی سے مسلسل پابندی کا شکار رہی ہے یعنی دوسرے الفاظ میں بسنت نہیں منائی جا رہی۔

ماضی میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے دو ادوار میں یہ پابندی ختم نہیں کی جا سکی۔ تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر کو پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ آئندہ برس فروری میں بسنت منعقد کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

وزیرِ اعلٰی پنجاب کے حوالے سے وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان سے منسوب مقامی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والے بیانات کے مطابق پنجاب حکومت نے اصولی طور پر بسنت منانے کا فیصلہ کیا ہے جو فروری کے دوسرے ہفتے میں منائی جائے گی۔

اس حوالے سے پنجاب کے وزیرِ قانون محمد بشارت راجہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو پتنگ بازی سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے حکومت کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔

لاہور میں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے لیے ملک اور بیرونِ ملک سے لوگ آیا کرتے تھے
تو کیا بسنت یعنی پتنگ بازی پر پابندی ختم؟
مقامی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی خبروں سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ بسنت پر باقاعدہ دائمی پابندی عائد تھی جو اب ختم کر دی گئی ہے لیکن حکام سے بات کریں تو معلوم ہوتا ہے ابھی ایسا کچھ نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلٰی پنجاب کے ترجمان شہباز گِل کا کہنا تھا کہ ’وزیرِ اعلی پنجاب کی خواہش تھی کہ بسنت منائی جانی چاہیے۔ اس حوالے سے انھوں نے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو اپنی سفارشات دے گی۔‘

لاہور کی ڈپٹی کمشنر صالحہ سعید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ابھی تو حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے وہ جو سفارشات دے گی اس کے بعد فیصلہ ہو گا۔ ابھی ایسے کوئی احکامات نہیں آئے کہ پتنگ بازی کی اجازت دی گئی ہو۔‘

پنجاب میں اگر آپ آج پتنگ اُڑاتے ہوئے پائے جائیں تو پولیس آپ کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے یعنی پتنگ بازی پر پابندی بدستور قائم ہے تاہم بسنت کا فیصلہ کمیٹی کی سفارشات پر منحصر ہے۔

ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی خبروں سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ بسنت پر باقاعدہ دائمی پابندی عائد تھی جو اب ختم کر دی گئی ہے
پتنگ بازی یا بسنت؟
پتنگ بازی پر پابندی کیسے اور کیوں عائد ہے اور اس سے بسنت کا تہوار کیسے جُڑا ہے؟

حکومتِ پنجاب نے سنہ 2009 میں پتنگ بازی کی ممانعت کا قانون منظور کیا تھا۔ اس کے مطابق پتنگ اڑانے اور پتنگ اور اس کو اڑانے کے لیے ڈور اور اس پر لگانے والا کانچ کا مانجھا بنانے اور بیچنے پر پابندی ہو گی۔

تاہم اس قانون کے مطابق ضلعی ناظم حکومتِ پنجاب کی پیشگی اجازت کے ساتھ بہار کے موسم میں 15 دن کے لیے پتنگ فروشی اور پتنگ بازی کی اجازت دے سکتا ہے۔

یعنی ان 15 روز کے علاوہ پتنگ اڑانے اور بیچنے پر پابندی ہو گی۔ ماضی میں حکومتِ پنجاب ان 15 روز کی بھی اجازت نہیں دیتی تھی۔

اگر حالیہ حکومت بسنت مناتی ہے تو وہ قانون کے مطابق انھی 15 روز میں ممکن ہو پائے گا۔

اجازت کیوں نہیں ملتی تھی؟
حکومت پنجاب کے ایک عہدیدار کے مطابق ماضی میں بھی ہر برس بسنت منانے یا نہ منانے کے حوالے سے بات چیت ہوتی تھی۔ یعنی موسمِ بہار میں پتنگ بازی کی اجازت دینے پر غور کیا جاتا تھا جس کی لیے کمیٹیاں بھی قائم کی جاتی تھیں۔

’ان کمیٹیوں میں مختلف سٹیک ہولڈرز پتنگ بازی کے خطرات کا بھی جائزہ لیتے تھے اور اس کے حق میں بات کرنے والوں کا مؤقف بھی لیا جاتا تھا۔ تاہم پتنگ بازی کی اجازت دینے کی سب سے زیادہ مخالفت پولیس کا محکمہ کرتا تھا۔‘

آخر میں زیادہ تر پولیس کا مؤقف موزوں مانا جاتا تھا۔ اس کے بعد 15 موسمِ بہار میں 15 روز کے لیے بھی اجازت نہیں دی جاتی تھی یعنی بسنت کا تہوار گزشتہ تقریباً 12 برس سے نہیں منایا جا سکا۔

ڈرو گلے پر پھرنے راہگیروں، موٹر سائیکل اور سائیکل سواروں کی اموات بسنت پر پابندی کی وجہ بنیں
پتنگ بازی کی مخالفت کیوں؟
اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں۔ ایک تو کانچ کا مانجھا لگی یا سنتھیٹک وہ مخصوص ڈوریں تھیں جو پتنگیں اڑانے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔ ان سے مخالف پتنگ کاٹنے میں آسانی ہوتی تھی اس لیے ان کا استعمال زیادہ کیا جاتا تھا۔

تاہم ڈور راہگیروں، موٹر سائیکل اور سائیکل سواروں کے گلے پر پھرنے اموات واقع ہو رہی تھیں جن میں بچے بھی شامل ہوتے تھے۔

دوسری وجہ ہوائی فائرنگ سے ہونے والی اموات تھیں۔ بسنت کے دنوں میں بڑے پیمانے پر لوگ گھروں کی چھتوں پر سے پتنگ بازی کے مقابلے کرتے تھے جن میں جیت کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کی جاتی تھی۔

ایسے تمام واقعات میں انسانی جانیں ضائع ہوتی تھیں یا لوگ زخمی ہوتے تھے۔

پولیس اس لیے بھی پابندی کی حمایت کرتی تھی کہ ایسے تمام واقعات کی روک تھام کی ذمہ داری پولیس کی بنتی تھی۔ پابندی کی صورت میں ایسا کرنا آسان ہوتا تھا۔

انسانی اموات کے بعد پتنگ بازی پر پابندی لگانے کے لیے احتجاج بھی ہوا تھا
’بس دو دنوں کی تو بات ہے‘
بسنت منانے کی حمایت کرنے والوں خصوصاً پتنگ بازی ایسوسی ایشن کی جانب سے یہی مؤقف اپنایا جاتا ہے کہ پولیس اگر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے تو بسنت منائی جا سکتی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ کائٹ فلائنگ ایسوسیئشن لاہور کے صدر شیخ محمد شکیل کا کہنا تھا کہ ’بس دو دنوں کی تو بات ہے۔ اگر آپ موٹر سائیکل پر ہیلمٹ پہننے کی پابندی پر عملدرآمد کروا سکتے ہیں تو ہوائی فائرنگ کی روک تھام اور ممنوع علاقوں میں پتنگ اڑانے پر پابندی پر بھی عملدرآمد کروایا جا سکتا ہے۔‘

قانون کے مطابق کھلے میدانوں، پارکوں یا سڑکوں پر پتنگ بازی نہیں کی جا سکتی۔ ’ویسے بھی بسنت کے دنوں میں سارا لاہور تو چھتوں پر ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پتنگ فروشی پر پابندی سے پتنگ اور ڈوری بنانے کے صنعت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔

’اس کے ساتھ ساتھ جو کاروبار منسلک تھے انھیں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اب اگر آپ بسنت کرواتے ہیں تو محض دو دنوں پر محیط اس سرگرمی سے اربوں روپے کا کاروبار ہو گا۔‘

ان کا دعوٰی تھا کہ ’آخری بار سنہ 2009 میں جب بسنت منائی گئی تھی تو دو ارب کا کاروبار ہوا تھا۔‘

شیخ محمد شکیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے موجودہ حکومت کے ساتھ مشاورت سے بسنت کے لیے آئندہ برس 9 اور 10 فروری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ ’جن لوگوں نے بیرونِ ملک سے آنا ہوتا ہے انھیں ٹکٹ لینے میں وقت لگتا ہے۔‘

تاہم حکومت کی جانب سے بسنت منانے کا ارادہ ظاہر کیے جاتے ہیں اس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہو گا کہ حکومتی کمیٹی کیا سفارشات مرتب کرتی ہے اور اس حوالے سے عدالت کیا فیصلہ دیتی ہے کیونکہ درخواست سامنے آنے کے بعد وزیرِ اطلاعات نے کہہ دیا ہے کہ جو عدالت کا حکم ہو گا وہ سر آنکھوں پر۔

بہ شکریہ بی بی سی

کوئی تبصرہ نہیں