سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی انتقال کر گئے، خادم حسین رضوی کی گواہی

0
37

اسلام آباد(اسٹاف رپوٹر) سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی انتقال کر گئے۔ میر ظفراللہ جمالی کچھ دن سے علیل تھے۔ مرحوم کی میت راولپنڈی سے جیکب آباد ایئرپورٹ پہنچادی گئی۔

خاندانی ذرائع کے مطابق میر ظفراللّٰہ خان جمالی کی میت جیکب آباد ایئرپورٹ سے روجھان جمالی کے لیے روانہ کردی گئی ہے۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ میر ظفراللّٰہ جمالی کی نمازجنازہ آج شام 4 بجے روجھان جمالی میں ادا کی جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم اور بلوچستان کی نامور سیاسی شخصیت میر ظفرﷲ خان جمالی انتقال کر گئے۔ سینیٹر ثناء جمالی نے اپنے نانا اور سابق وزیر اعظم ظفرﷲ جمالی کے انتقال کی تصدیق کی۔
میر ظفرﷲ جمالی گزشتہ کئی دن سے اے ایف آئی سی میں زیر علاج تھے اور گزشتہ 3 دن سے وینٹی لیٹر پر تھے۔

Zafar ullah Jamali & Khadim Hussain Rizvi

ظفراللہ جمالی سچے عاشق رسولؐ تھے تقریباً 40سال سے عمرہ پر باقاعدگی سے جاتے رہے. مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک کے بانی خادم حسین رضوی گزشتہ روز انتقال کر جانے والے پاکستان کے سابق وزیراعظم میر ظفر اللّٰہ خان جمالی کے قومی اسمبلی میں ختم نبوت پر اپنے موقف پر ڈٹ جانے کی متعدد بیانات میں تعریف کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر خادم حسین رضوی کے اس بیان کا ایک کِلپ زیر گردش ہے جس میں انہوں نے کہا کہ جب کسی اسمبلی ممبر نے ختم نبوت پر کوئی بات نہ کی تو ایک ہی مرد مجاہد نے اپنی آواز بلند کی اور اسمبلی چھوڑ کر چلا گیا۔ خادم رضوی کا کہنا تھا کہ ’ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف بولنے پر قیامت تک اب کسی اور کا نام رہے نا رہے ظفر اللّٰہ خان جمالی کا نام رہے گا۔

Imran Arif Alvi & Jamali

صدر عارف علوی ،وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ،سپیکرقومی اسمبلی اسدقیصر،وفاقی وزیرداخلہ اعجازاحمدشاہ ،چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی، مونس الٰہی اور سالک حسین ، سینیٹر فیصل جاوید خان،راجہ ظفرالحق، بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی اور تمام سیاسی وسماجی شخصیات نے میرظفراللہ جمالی کے انتقال پراظہارافسوس کیااور مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی،انہوں نے کہا میرظفراللہ جمالی سنجیدہ سیاستدان کی پہچان اور شرافت کا پیکر تھے.

ظفر اللہ جمالی پاکستان کے 15ویں وزیراعظم رہ چکے ہیں، وہ یکم جنوری 1944ء کو بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی، بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچی سن کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی اور 1965ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی،ظفر اللہ جمالی صوبہ بلوچستان کی طرف سے اب تک پاکستان کے واحد وزیر اعظم تھے ، انھیں انگریزی، اردو، سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو زبان پر عبور تھا،ان کی پہچان ایک سنجیدہ اور منجھے ہوئے سیاست دان کی رہی، وہ روایات کے پابند تھے جن میں دوستی اور تعلقات نبھانا اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا شامل ہے.

1970ء کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار کھڑے ہوئے لیکن کامیاب نہ ہو سکے ،1977ء میں بلا مقابلہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور وزیر خوراک اور اطلاعات مقرر کیے گئے ، 1982ء میں وزیر مملکت خوراک و زراعت بنے ، 1985ء کے انتخابات میں بلا مقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ، 1986ء میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں پانی اور بجلی کے وزیر رہے ،29ء مئی 1988ء کو جب صدر جنرل ضیاء الحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کیا تو انہیں وزیر ریلوے لگادیاگیا، 1986ء کے انتخابات میں صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئے ، 1988ء میں بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے ، انتخابات میں منتخب ہونے کے بعد انہوں نے وزارت اعلیٰ کا منصب تو برقرار رکھا لیکن اسمبلی توڑ دی جسے بعد میں عدالت کے حکم سے بحال کیا گیا، 1990ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے امیدوار تھے لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 1993ء میں کامیاب ہو گئے ، 9 نومبر 1996ء تا 22 فروری 1997ء دوبارہ بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ رہے ، 1997ء میں سینیٹر بنے ۔
Mushraf & Jamali
وزیر اعظم بننے کے بعد صدرپرویز مشرف کی پالیسیوں کی مکمل حمایت کی، جمہوریت کی بحالی کی طرف روبہ عمل رہنے کا وعدہ کیا تاہم وہ اپنی یہ پوزیشن برقرار نہ رکھ سکے اور 26 جون 2004ء کو وزیر اعظم کے عہدہ سے مستعفی ہو گئے ،ظفراللہ جمالی سیاست کے علاوہ ہاکی کے بہترین کھلاڑی بھی رہے ۔

آئی این پی کے مطابق صوبائی وزیر میر عمر خان جمالی نے بتایا ظفر اللہ جمالی کی نماز جنازہ آج جمعرات کو آبائی علاقے روجھان جمالی میں ادا کی جائے گی ۔
Mir Zafarullah Khan Jamali 1

کوئی تبصرہ نہیں