لوگ امیر کیسے ہو جاتے ہیں اور کچھ غریب کیوں رہ جاتے ہیں؟

0
9
How do people get rich and why do some stay poor?
How do people get rich and why do some stay poor?

تھامس سی کارلے پیشے کے اعتبار سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔ انہوں نے ارب پتیوں کی عادات جاننے کے لئے پانچ برس میں 233 ارب پتیوں سے انٹرویو کئے، جو اپنی کتاب ”امراء کی عادات ‘‘میں شائع کئے۔

انہوں نے اپنے زور بازو سے امیر بننے والوں کے انٹرویوز بھی کئے اور سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والوں سے بھی سوالات کئے۔

ان میں 177 سیلف میڈ اور باقی 56 پیدائشی ارب پتی تھے۔ عمر کے اعتبار سے بھی مختلف گروپ بنائے گئے۔ تھامس کارلے نے امراء کے علاوہ مارچ 2004ء سے مارچ 2007ء تک 128 غریبوں کے انٹرویوز بھی کئے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کچھ لوگ امیر کیسے ہو جاتے ہیں اور کچھ غریب کیوں رہ جاتے ہیں؟

یا یہ کہ امیر اور غریبوں کے دن بھر کے کام کی نوعیت میں کیا فرق ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کچھ ترقی کر جاتے ہیں اور کچھ زوال کا شکار ہی رہتے ہیں۔

ان کے پیش نظر وہ امراء تھے جن کے اثاثوں کی مالیت 32 لاکھ ڈالر اور ماہانہ آمدنی 1.60 لاکھ ڈالر سے زیادہ تھی۔

تھامس لکھتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ آپ دولت مند ہوں اور ماہانہ آمدنی بھی زیادہ ہو۔ ممکن ہے کہ کسی کے اثاثوں کا حجم 32 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہو لیکن ماہانہ آمدنی اس سے کم ہو۔

تھامس کارلے اس نتیجے پر پہنچا کہ امارت کا راز اچھی عادات میں مضمر ہے، جبکہ اچھی عادات کو ترک کرنے والے امیر نہیں بن سکے۔

انہوں نے دیکھا کہ ارب پتی اپنے لئے خریداری میں فضول خرچی نہیں کرتے، وہ قیمتوں پر تبادلہ خیال کرتے ہیں، وہ قیمت کم کرانے کے لئے اچھے سودے باز بھی ثابت ہوئے ہیں لیکن یاد رکھیے، وہ غیر معیاری اشیا کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے، وہ اعلیٰ ترین معیار کی چیز یا سروس کم قیمت پر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب میں نے اس کلیے کو اپنے اوپر نافذ کیا تو میں نے اپنے آپ میں بھی کئی باتیں مشترک پائیں۔ میں نے بھی آٹو میٹک کار 25 ہزار ڈالر میں خریدی تھی جس کا میٹر بھی 25 ہزار کلومیٹر شو کر رہا تھا جبکہ نئی کار 60 ہزار ڈالر میں ملتی۔ میں نے بھی ارب پتیوں کی طرح 35 ہزار ڈالر بچا لئے۔

سیلف میڈ ارب پتی نہایت ہی اعلیٰ چیز کو ترجیح دیتے ہیں لیکن آنکھیں بند کرکے پیسہ نہیں پھینکتے۔ وہ پرانی اشیا کو زیادہ دیر تک نہیں رکھتے۔ پرانی مشنری بار بار خراب ہوتی ہے، درد سر بن جاتی ہے۔

6 ارب پتیوں نے بتایا کہ انہوں نے گڈ ول سٹورز‘ سے ملبوسات خریدے۔ یوں بہترین معیار کے کپڑوں کی شاپنگ میں بھی کئی ہزار ڈالر بچا لئے۔ ایک ارب پتی نے بتایا کہ ہر بار جب میں ایک ہزار ڈالر بچاتا ہوں تو یہ سمجھ لیتا ہوں کہ میں ان سے مزید 15 برسوں میں کتنے کما سکتا ہوں۔ ایک ہزار ڈالر کی بچت کو میں 5 ہزار ڈالر کے برابر سمجھتا ہوں۔ یہ میرے مستقبل کا خزانہ ہے۔

امرا کہتے ہیں کہ پیسے بچانے سے کبھی کوئی امیر نہیں بنا لیکن بچائے گئے پیسوں کا بہترین استعمال دولت میں اضافے کا موجب بن سکتا ہے۔ یہ اضافی سرمایہ کاری کی بنیاد ہے۔ تمام ارب پتیوں میں ایک بات مشترک تھی کہ وہ ایک دن بھی کھونا نہیں چاہتے۔
مندرجہ ذیل باتوں کو آپ جتنی جلدہی سمجھ جائیں گے اتنی ہی جلدی دولت آپ کے قدم چومے گی۔

آج کے دن اگر اپنے اندر کوئی بری عادت یا خامی نظر آئے تو امراء کا انداز اپناتے ہوئے اسے آج ہی کے دن دور کر لیا جائے، ورنہ یہ عادت مصیبت بن سکتی ہے۔ بری عادت کو اچھی عادت میں بدلنے سے فرد کی کمزوری اس کی طاقت بن جاتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر یہ خامی ہے کہ آپ روزانہ کتاب نہیں پڑھتے تو آج سے کتاب پڑھنے کو اپنی عادت بنا لیجئے۔

اپنی اچھی عادات کی ایک فہرست بنا لیجئے اور دیکھئے کہ آپ نے گزرے ہوئے دن میں کون کون سی اچھی عادت پر عمل کیا جیسا کہ اگر آپ لوگوں کی مدد کرتے ہیں توبیتے دن میںکس کی مدد کی ہے؟

اپنا بڑا مقصد طے کیجئے اور اس کے حصول کے لئے یومیہ ہدف یا اہداف مقرر کرتے ہوئے ان پر عمل کیجئے۔

اپنے کاموں میں روزانہ کسی اچھی بات کا اضافہ کیجئے یعنی خود کی اصلاح کا خیال کیجئے۔

اپنی صحت کا خیال کیجئے، اگر آپ ورزش نہیں کرتے تو روزانہ آدھا گھنٹہ ورزش کرنے کی عادت اپنا لیجئے۔

صرف اچھے اور مثبت خیالات کے حامل افراد سے ہی رابطہ قائم رکھیے، بری صحبت سے جان چھڑا لیجئے۔

جاب یا بزنس، تفریح یا کھیل اور خاندان کو مناسب وقت دیجئے، سبھی میں توازن قائم کیجئے۔

یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ آج کا کام کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے ‘‘ بلکہ اسے مائنڈ سیٹ بنا لیجئے۔ صرف مثبت کاموں پر دھیان دیجئے، منفی سرگرمیوں میں وقت اور صلاحیت، دونوں ہی برباد ہوتی ہیں۔

ہر تنخواہ سے کم از کم 10 فیصد رقم بچا کر کسی بزنس میں لگائیے۔

کوئی تبصرہ نہیں