دنیا اب بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی پر کھل کر بات کر رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

0
27

راولپنڈی: (ویب ڈیسک)غیرملکی ویب چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ بھارت پانچ اگست 2019 کے اقدام کے بعد سے ہی عالمی سطح پر کمزور پوزیشن پر ہے، دہشت گردی میں بھارت ملوث، پاکستان ڈوزیئر میں ثبوت سامنے لایا، دنیا اب بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی پر کھل کر بات کر رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے انٹرویو میں کہا کہ بھارت افغان سر زمین کو استعمال کر کے سی پیک کو نشانہ بناتا ہے، بھارت کے پاس دہشت گرد ہیں، وہ سی پیک پر کام کرنے والی چینی افرادی قوت اور مقامی لیبر کو نشانہ بناتا ہے، مگر ان خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں، پاکستان نے سی پیک کی سیکیورٹی کے لئے خاص طور پر دو ڈویژن فورس تشکیل دی ہے، اس کے علاوہ آٹھ نو ریگولر رجمنٹس بھی راہداری کی حفاظت پر مامور ہیں۔
DG ISPR Gen. Babar Iftikhar
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا بھارتی سی پیک کی ٹائم لائن مکمل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کرچکے، وہ سمجھتے ہیں رکاوٹیں ڈالنے سے منصوبہ رک جائے گا، بھارت سی پیک کو ترقی کرتے نہیں دیکھنا چاہتا، اس کا مطلب واضح ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے چینی پارٹنرز سی پیک منصوبے کی سیکیورٹی کے انتظامات سے مکمل مطمئن ہیں، سی پیک کو نقصان پہنچانے کی ہر بھارتی سازش کو ناکام بنائیں گے، انشاءاللہ سی پیک ہر روز پہلے سے زیادہ ترقی کرے گا۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارت افغان سر زمین کو استعمال کر کے سی پیک کو نشانہ بناتا ہے ہم افغان قیادت سے اس مسئلے پر بات کرتے رہتے ہیں، ایک باقاعدہ میکنزم موجود ہے، لیکن واضح طور پر بتادوں کہ ہم افغان حکومت کے استعدادی مسائل کو تسلیم کرتے ہیں، اس لیے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہونے پر افغان حکومت کو زیادہ الزام نہیں دیتےاور افغان حکومت کو درپیش مسائل کو تسلیم کرتے ہیں۔
کورونا کی دوسری لہر اور این سی او سی کے کردار پر اظہار خیال کرتے ہوئے میجر جنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ کورونا وبا سے نمٹنے میں پہلے دن سے پاک فوج ہر حکومتی کوشش کا حصہ ہے، تاہم آئی ایس پی آر کے این سی او سی اور میڈیا نے کورونا کے خلاف اقدامات میں زبردست حصہ ڈالا، میڈیا نے اربوں روپے کی آگاہی مہم مفت چلائی، خاص طور پر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرزکو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، این سی او سی میں فوجی اور سویلین مربوط نمائندگی ہے، یہ تجربہ بہت اچھا رہا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اسمارٹ لاک ڈائون یقینی بنانے کے لیئے فوجی دستے تعینات کیے گئے، وبا سے نمٹنے کی حکمت عملی اور فیصلوں میں فوج کے معلومات یا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سسٹمز کا فائدہ اٹھایا گیا، پہلی لہر میں جو خامیاں اور کوتاہیاں ہمارے صحت کے نظام میں سامنے آئیں، انہیں ہنگامی بنیادوں میں دور کرنے کے اقدامات کیے گئے، یہی وجہ ہے کہ دوسری لہر میں ہماری تیاری پہلی لہر کے مقابلے میں خاصی بہتر ہے، ہم کورونا کی دوسری لہر کا بہتر طور پر مقابلہ کر رہے ہیں، اور یہ بھی ضرور کہوں گا کہ دوسری لہر میں ہم سب کو زیادہ احتیاط کرنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

کوئی تبصرہ نہیں