نوازشریف العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں بھی اشتہاری قرار

0
23

اسلام آباد(اسٹاف رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں العزیزیہ ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر عدالت کے سامنے پیش ہوئے جب کہ نوازشریف کی لندن رہائش گاہ پر اشتہار رائل میل کے ذریعے پہنچانے کی مصدقہ رسیدیں بھی عدالت کے سامنے پیش کی گئیں۔

وزارت خارجہ کے افسر مبشر خان بیان ریکارڈ کرانے کے لئے عدالت کے سامنے پیش ہوئے، بیان ریکارڈ کرانے سے قبل مبشر خان سے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے حلف لیا اور نوازشریف کے عدالت طلبی اشتہار تعمیل سے متعلق دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کیں۔
عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اشتہار اردو میں چھپا ہے یا انگریزی میں؟۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے جواب دیا کہ اشتہار انگریزی میں ہی چھپا ہے۔ عدالت نے پھر استفسار کیا کہ رجسٹرار آفس نے جو ٹیکسٹ آپ کو دیا تھا کیا یہ وہی ہے؟۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی جو اشتہار ہے اس کا وہی ٹیکسٹ ہے جو رجسٹرار آفس نے ہمیں بھیجا تھا۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ جو دستاویزات آپ نے دیں تو کیا یہ نواز شریف کی دونوں اپیلوں کی ہیں؟۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نواز شریف کی دونوں اپیلوں کی الگ الگ عدالتی طلبی اشتہار کی دستاویزات ہیں، آپ دونوں اپیلوں میں عدالت طلبی اشتہار کی عمل درآمد دستاویزات جمع کرائیں۔

دوران سماعت لندن کے لوکل قوانین کی کاپی بھی عدالت میں پیش کی گئی، وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر یورپ مبشر خان نے رائل میل کی مصدقہ رسیدوں کی کاپی بھی عدالت کے سامنے پیش کی۔ وزارت خارجہ افسر نے عدالت کو پاکستان ہائی کمیشن لندن کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت کا بتایا، مبشر خان نے بیان بھی ریکارڈ کرایا۔
نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سابق جج ارشد ملک کے خلاف اپیل میں متفرق درخواست دائر ہے۔

جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ اپیلوں پر کیا کیا جانا چاہیئے؟

نیب پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت سے نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز پر اپیلیں مسترد کرنے کی استدعا کی گئی۔
نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ نواز شریف کی اپیلیں میرٹ پر مسترد کر دی جانی چاہئیں۔

جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ آج نہیں لیکن آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کریں، آئندہ سماعت پر عدالتی نظیریں پیش کریں کہ اشتہاری ملزم کی اپیل کا کیا کیا جانا چاہیئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اس عدالت نے ارشد ملک کا کنڈکٹ بھی تو دیکھنا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ نواز شریف نے 5 گواہ پیش کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے، دوسری درخواست ناصر بٹ نے دائر کر رکھی ہے، وہ بھی اشتہاری ملزم ہے۔

عدالتِ عالیہ نے کہا کہ جج ارشد ملک نے بھی ایک بیانِ حلفی دیا تھا جسے انتظامی اختیارات میں ریکارڈ کا حصہ بنا دیا تھا۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آئندہ سماعت پر عدالت کو بتائیں کہ پہلے متفرق درخواست کو دیکھنا ہے یا اپیلوں کو۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہائی کورٹ کی خصوصی عدالت پر سپروائزری تو موجود ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ملزم اگر مفرور ہو بھی گیا تو عدالت نے قانون تو دیکھنا ہے۔

عدالتِ عالیہ نے سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ دے دیا اور کہا کہ تحریری آرڈر کچھ دیر میں جاری کریں گے۔

کوئی تبصرہ نہیں