سانحہ اے پی ایس آج بھی ایک ڈراؤنا خواب، مگرپاکستانی بچوں اور عوام کےعزم اب بھی جواں

0
137

مگرسولہ دسمبر 2014 وہ دن ہے جب پشاورکے آرمی پبلک اسکول پر بزدل دشمن نے حملہ کردیا، صبح گیارہ بجے دہشتگرد اسکول میں داخل ہوئے نہ صرف طلبہ اور اساتذہ کویرغمال بنایا بلکہ ایک سوبتیس معصوم جانوں سمیت ایک سواکتالیس افراد کوشہید کیا۔

سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی میں دہشتگردوں کو مار گرایا لیکن خونریزی کا یہ واقعہ پیچھے صرف والدین کی آہیں اورسسکیاں چھوڑ گیا۔ دہشتگردوں کی یہ سازش علم کی شمع نہ بجھاسکی، ماؤں کا حوصلہ نہ توڑسکی، آرمی پبلک اسکول کی کلاسیں پھربھرگئیں۔

سانحہ اے پی ایس میں علم دشمنوں نے معصوم بچوں پر جو قیامت ڈھائی اسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا، آرمی پبلک اسکول حملے میں جسم پر 8 گولیاں کھانے والے غازی طالبعلم ولید خان نے بہادری اور شجاعت کی نئی تاریخ رقم کر دی، دہشت گردوں نے پشاور سے تعلق رکھنے والے اے پی ایس کے 9 ویں جماعت کے طابعلم ولید خان پر مسلسل گولیاں چلائیں ،جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا تھا۔ چہرے پر 6 گولیاں لگنے سے ولید خان کا چہرہ کھل گیا تھا اور جبڑا لٹک گیا تھا جسکی وجہ سے شناخت بھی مشکل ہوگٰؐی تھی اور خون بہنے سے کم سن طالبعلم کافی دیر تک بے ہوش پڑا رہا ۔
Waleed Khan 1
ولید خان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد جب مجھے ہسپتال لے جایا گیا تو میرے والد مجھے بہت دیر تک ڈھونڈتے رہے، آخر میں ایک ڈاکٹر نے میرے والد کو کہا کہ وہاں کونے میں ایک بچہ پڑا ہوا وہ ٓاپکا تو نہیں لیکن اس وقت بھی بابا نے مجھے نہیں پہچانا، 8 روز بعد جب مجھے ہوش آیا تو تب بھی شناخت مشکل تھی پھر میری ماں کو بلوایا گیا تو انہوں نے میرا گھر میں بچپن کا جو نام لیا جاتا تو وہ پکارا جس پر میں نے ہاں میں جواب دیا جس سے میری شناخت ہوئی۔
Waleed Khan
ولید خان کو علاج کے لئے چند سال پہلے بر طانیہ بھجوایا گیا ، اب تک بہادر طالبعلم کی 12 سرجریاں ہو چکی ہیں جن میں چہرے کی 6 بار پلاسٹک سرجری بھی ہو چکی ہے، ولید خان نے ہمت نہ ہاری اور اب اُسے برطانیہ میں یوتھ پارلیمنٹ کا رکن منتخب کیا گیا ہے۔

اسی طرح احمد نواز جو ان دنوں آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال میں زیر تعلیم ہیں۔ احمد نواز نے آج سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے بتایا کہ سانحہ اے پی ایس آج بھی ان کے لیے ڈراؤنا خواب ہے جس نے اس کے بھائی حارث نواز سمیت درجنوں دوستوں کی جانیں لے لیں۔
احمد نواز کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں علاج کے بعد انہوں نے اپنی تمام توجہ اعلیٰ تعلیم کی جانب مبذول کرلی اورمیرٹ کی بنیاد پر آج آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔
Ahmed Nawaz
احمد نواز ان دنوں جس کالج میں تعلیم حاصل کررہے ہیں وہاں سے سابق وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو سمیت دنیا کی نامور شخصیات نے تعلیم حاصل کی ہے لیکن احمد کا سیاست میں حصہ لینے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے وہ اپنی تمام توجہ تعلیم اور سماجی خدمت پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔
احمد نواز کا کہنا ہے کہ پاکستان ان کی روح میں ہے اور جوں ہی حالات نے اجازت دی وہ پاکستان جائیں گے، احمد نواز ان دنوں تعلیم کے ساتھ ساتھ سماجی کام میں بھی مصروف ہیں جہاں وہ پاکستان اور لبنان سمیت کئی دیگر ممالک کے نوجوانوں میں تعلیم کے حصول کی آگاہی پھیلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ احمد نواز آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاکستانی اسٹوڈنٹس سوسائٹی کے سرگرم رکن بھی ہیں جس کا مقصد پاکستان کی اقدار و روایات اور ثقافت کو دیگر ممالک کے طلباء تک پہنچانا ہے۔
واقعے کے بعد پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب کو مزید تیز کیا اور ملک دشمن قوتوں کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔ واقعہ میں بچنے والے آج ملک کا نام روشن کرنے میں مصروف ہیں اور پوری قوم شہدا اے پی ایس کوسلام پیش کررہی ہے۔
Zarb-e-Azab

کوئی تبصرہ نہیں