ایبٹ آباد، چوروں کی فائرنگ سے سماجی کارکن کبیر عباسی کی زندگی چلی گئی

0
4

ریٹائرڈ پولیس کانسٹیبل مختاج احمد کے گھر ڈکیتی کی واردات،زندگی بھر کی جمع پونجی لیکر باآسانی فرار
شملہ پہاڑی چوکی انچارج کی مبینہ ملی بھگت سے فرار ہونے والے قاتل تاحال گرفتار نہ ہو سکے
قاتل ڈکیت گرفتار کئے جائیں ،شہریوں کا ڈی آئی جی ہزارہ، ڈی پی او ایبٹ آباد سے نوٹس کا مطالبہ

v1
ایبٹ آباد ( نیوز رپورٹر) ایبٹ آبادشملہ پہاڑی چوکی کی حدود میں مبینہ طور پر پولیس اور چوکی انچار ج محمد آفتاب کی ملی بھگت سے چوریاں، ڈکیتیاں سرعام ہونے لگیں، شیران وان روڈ پر 4مسلح افراد نے ریٹائرڈ پولیس کانسٹیبل مختاج احمد کے گھر ڈکیتی کی واردات کرتے ہوئے اہلخانہ کو یرغمال بناتے ہوئے بدترین تشدد کیا اور گھر سے زیوارات، قیمتی اشیاء اور نقدی لیکر فرار ہوئے ، شور شرابے پر گاؤں کے لوگ جب گھروں سے باہر نکلے تو بھاگتے چوروں نے فائرنگ کر ایک سیاسی سماجی کارکن نوجوان کبیر احمد عرف کالا خان کو قتل کر دیا، واقعہ پر فوری طور پرشملہ پہاڑی چوکی کے انچارج آفتاب کو اطلاع دی گئی جس نے جواب میں ابھی ایک شادی میں ہوں آپ سوبن چوکی میں رابطہ کریں، اہل علاقہ نے جب سوبن چوکی رابطہ کیا تو وہاں سے جواب ملا کہ یہ ہماری حدود نہیں نہیں آپ شملہ چوکی رابطہ کریں، پولیس کی ناہلی، غفلت اور فرائض سے کوتائی کی انتہا ہو گئی کہ چور سرعام چوری کرتے رہے، مقامی نوجوان کو فائرنگ کر کے قتل کردیا،
v3
پورے گاؤں میں فائرنگ کرتے رہے اور شملہ پہاڑی چوکی اور سوبن چوکی کی پولیس اپنی اپنی حدود کا تعین کرتی رہیں ، اگر پولیس بروقت پہنچ جاتی تو چوروں کو باآسانی سے پکڑا جا سکتا تھا، چور جب گاؤںمیں سرعامی فائرنگ کرتے ہوئے با آسانی آرام سے فرار ہو گئے ، نوجوان قتل ہو گیا تو اس کے بعد شملہ چوکی انچارج آفتاب دلہا کی سجائی ہو کار میں نمبودار ہوا اور پولیس نے مین روڈ سے نیچے اترنا بھی گوارہ نہ کیا، جس پر شہریوں کا کہنا ہے کہ شملہ پہاڑی چوکی انچارج ڈکیتوں اور چوروں کی سرپرستی کرتا ہے، جس نے پہلے سوبن چوکی کا چکر دیا اور پھر دیر سے آکر چوروں کو بھاگنے کا موقع دیا جبکہ ایک ہی واقعہ کی دو الگ الگ ایف آئی آر کاٹ کر پولیس نے جان بوجھ کر کیس خراب کرنے کی کوشش کی، شہریوں کا کہنا ہے کہ شملہ پہاڑی چوکی محمدآفتاب کو پہلے بھی یہاں سے جرائم کا اضافہ ہونے پر تبدیل کیا گیا جس کے بعد علاقے میں امن قائم ہوا تھا، اب دوبارہ جب سے آفتاب کی اس چوکی میں واپس تعیناتی ہوئی علاقے میں چوری ڈکیتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، عوام کی زندگی غیر محفوظ ہے، شہریوں نے ڈی آئی جی ہزارہ، ڈی پی او ایبٹ آباد سے مطالبہ کیا ہے ،چوریوں اور کبیر عباسی کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے ان کی سرپرستی کرنے والوں کو بھی بے نقاب کیا جائے، اتنے بڑے واقعہ پر پولیس کے جان بوجھ کر لیٹ پہنچنے کا نوٹس لیا جائے۔ مبینہ طور پر جرائم کی سرپرستی کرنیوالے شملہ چوکی انچارج محمدآفتاب کو معطل کیا جائے۔۔۔

کوئی تبصرہ نہیں