Sargaram | Newspaper

اتوار 26 مئی 2024

ای-پیپر | E-paper

دہشت گردی اور بھتے کے واقعات میں زیادہ ترافغان سمز استعمال ہونے کا انکشاف

Share

پشاور : خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور بھتے کے واقعات میں زیادہ تر افغان سمز کے استعمال ہونے کا انکشاف سامنے آیا۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی نے رواں سال خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات پر رپورٹ مرتب کرلی۔

جس میں بتایا گیا کہ کے پی میں دہشتگردی،بھتےکےواقعات میں زیادہ ترافغان سمز استعمال ہوتی ہیں، صوبے میں دہشت گردی کے830مقدمات درج ہیں۔

رپورٹ میں کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی نے 601 کیسز کو ٹریس کیا اور 1 ہزار 982 ملزمان تمام مقدمات میں نامزد ہوئے، جس میں سے 500 سے زائدملزمان کو گرفتار کرلیا اور 216 آپریشنز میں ہلاک ہوئے۔

سی ٹی ڈی نے کہا ہے کہ 32کیسزمیں ملزمان کوعدالت سے سزائے ہوئیں اور بھتہ خوری کے 80 کیسز درج کئے گئے، جس میں سے 47 ٹریس ہوگئے ہیں۔

بھتہ خوری میں197ملزمان نامزد ہے اور 90اب تک گرفتار کئے گئے جبکہ بھتہ خوری میں ملوث5 گروپوں کا خاتمہ کیا گیا۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمران شاہد کا کہنا ہے کہ بھتے اور دہشت گردی واقعات میں افغان سمیں استعمال ہوتی ہیں، افغان سمزتک رسائی میں اداروں کو مسائل کاسامنا کرنا پڑتا ہے تاہم سی ٹی ڈی کوبھتے کی کالز پر جلد از جلد ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی گئی۔

Share this Article
- اشتہارات -
Ad imageAd image