Sargaram | Newspaper

منگل 05 مارچ 2024

ای-پیپر | E-paper

سندھ ہائیکورٹ کی کے ایم سی کو غیرقانونی پارکنگ ختم کرنے کی ہدایت

Share

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کو شہر سے غیرقانونی پارکنگ ختم کرنے کی ہدایت دے دی۔

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس ندیم اختر نے کراچی میں غیرقانونی چارجڈ پارکنگ کے خلاف درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت نے کے ایم سی کے وکیل سے پارکنگ فیس کے حوالے سے استفسار کیا کہ  کس قانون کے تحت آپ پارکنگ فیس لیتےہیں؟

کے ایم سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں کے ایم سی کو روڈ مینٹیننس کیلئے پارکنگ وصولی کی اجازت ہے اسی لیے  کے ایم سی کو 41 سڑکوں اور سروس روڈز پر پارکنگ فیس وصولی کی اجازت ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کے ایم سی کے نام پرغیر متعلقہ افراد کوپارکنگ فیس وصولی سے کیسے روکیں گے؟ بیرون ملک تو پارکنگ فیس کیلئے مشینیں نصب ہوتی ہیں، کیا کے ایم سی تمام علاقوں میں فیس وصول کرسکتی ہے؟ اور کیا عدالت کو بتانا پڑے گا کہ آپ کی ذمہ داری کیا ہے ؟

جسٹس ندیم اختر نے کے ایم سی کی رپورٹ سے متعلق ریماکس دیے کہ رپورٹ حقائق کے برعکس ہے، صرف کاغذی کارروائی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

جسٹس ندیم اختر نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں 43 مقامات کی فہرست دی گئی اور ویب سائٹ پر 81 مقامات ہیں، پارکنگ سے متعلق عدالتی فیصلے موجود ہیں، ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوتا؟ جو علاقے کے ایم سی کی حدود میں نہیں آپ وہاں کیسے فیس وصول کرسکتے ہیں؟ آپ جن علاقوں کی سڑکیں مینٹین نہیں کرسکتے وہاں فیس کس قانون کے تحت وصول کررہے ہیں؟

عدالت نے کہا کہ ہمیں تفصیلی جواب چاہیے، جہاں پارکنگ نہیں ہونی چاہیے وہاں بھی کیسے اجازت دی جاتی ہے؟

عدالت نے کے ایم سی کو غیرقانونی پارکنگ ختم کرنے کی ہدایت دی اور ساتھ ہی کے ایم سی پارکنگ کا قانون، پارکنگ فیس وصولی اور جامع پلان پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی۔

Share this Article
- اشتہارات -
Ad imageAd image