Sargaram | Newspaper

ہفتہ 22 جون 2024

ای-پیپر | E-paper

شمالی غزہ کے بعد اسرائیل نے جنوبی غزہ پر بھی بم برسادیے، 700 فلسطینی شہید

Share

شمالی غزہ میں 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہریوں کی جان لینے کے بعد اسرائیل نے زمینی کارروائی پورے غزہ تک بڑھادی۔

اسرائیلی آرمی چیف نے جنوبی غزہ میں شدت سے حملوں کی تصدیق کی اور اسرائیل نے ان حملوں میں فضائیہ کی مدد لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اسرائیل نے چھاپوں میں متعدد فلسطینیوں کوگرفتار کرلیا

فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے مغربی کنارے سمیت جینن، سلواد، جفنا، جلازوم، قلقلیا اور ہبرون میں چھاپے مارے اور متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں لڑائی کے دوران اپنے تین فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔

https://x.com/AJA_Palestine?s=20

دوسری جانب غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے سے اردن کا شہری جاں بحق ہوگیا جس کی تصدیق اردن کی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔

اردن کی وزارت خارجہ کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے میں اردن کا ایک شہری جاں بحق اور اس کا بھائی شدید زخمی ہوا جسے اسپتال منتقل کیا گیا تو ڈاکٹرز نے اس کے کومہ میں ہونے یکی تصدیق کی ہے۔

24 گھنٹوں میں 700 سے زائد فلسطینی شہید

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کی علی الصبح جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں شدید بمباری اور شیلنگ کی ہے جس میں فوری طور پر جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہےکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 700 فلسطینی شہید کیے گئے،کمال عدوان اسپتال کے دروازے پر بمباری سے 4 فلسطینی شہید ہوئے جب کہ اسپتال کے گھیراؤ کی کوشش کی گئی۔

بڑے پیمانے پر انفیکشنز کا پھیلاؤ

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے یو این او سی ایچ اے کے مطابق جنوبی غزہ میں بڑے پیمانے پر انفیکشنز کا پھیلاؤ ہورہا ہے جس میں ایک سے دوسرے کو لگنے والے انفیکشنز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ڈائیریا اور جِلد کے انفیکشنز کے بھی متعدد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

اسرائیلی ایجنسی شن بیت نے قطر، ترکیہ اور لبنان میں بھی حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے حماس کی شاتی بٹالین کے کمانڈر حیثم خواجری کو فضائی حملے میں قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے

مزاحمت کاروں سے جھڑپیں تاحال جاری ہیں، رفاح سٹی میں گھروں پر بمباری ہورہی ہے جس میں شہادتوں کا خدشہ ہے، جب کہ اب بھی کئی افراد ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔

 

Share this Article
- اشتہارات -
Ad imageAd image