Sargaram | Newspaper

اتوار 14 اپریل 2024

ای-پیپر | E-paper

فلپائن میں مسافر بس کھائی میں گر گئی،17 افراد ہلاک

Share

ایران نے جانوروں پر مبنی حیاتیاتی کیپسول مدار میں بھیجا ہے جس کا مقصد آئندہ برسوں میں خلا میں انسانی مشن بھیجنے کی تیاری ہے۔

محتويات
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کی نیوز ایجنسی ارنا کی رپورٹ میں ٹیلی کمیونیکیشن کے وزیر عیسیٰ زارع پور کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران نے جانوروں کو لے کر جانے والا کیپسول مدار میں بھیجا ہے جس کا مقصد آئندہ برسوں میں خلا میں انسانی مشن بھیجنے کی تیاری ہے۔اس کیپسول کو 130 کلومیٹر (80 میل) کے فاصلے پر مدار میں چھوڑا گیا ہے تاہم وزیر مواصلات نے یہ نہیں بتایا کہ یہ بائیو کیپسول میں کس قسم کے جانوروں پر مبنی ہے۔ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے سلمان نامی راکٹ کی فوٹیج بھی دکھائی ہے جس کے ذریعے ایک کیپسول کو خلا میں بھیجا جا رہا ہے۔یہ راکٹ ایران کی وزارت دفاع اور مسلح افواج کے لاجسٹکس کے ایرو اسپیس ونگ نے بنایا ہے اور ایرانی خلائی ایجنسی کے مطابق، 1,100 پاؤنڈ وزنی کیپسول اب تک کا سب سے بھاری حیاتیاتی کیپسول ہے جسے ایران نے کامیابی کے ساتھ مدار میں بھیجا ہے۔عیسیٰ زارع پور نے اس حوالے سے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے اس کیپسول کے اجرا کا مقصد آنے والے برسوں میں ایرانی خلابازوں کو خلا میں بھیجنا ہے۔واضح رہے کہ ایران اس سے قبل بھی مختلف سیٹلائٹ اور دیگر قسم کے خلائی راکٹس کو کامیابی سے مدار میں بھیجنے کا اعلان کرتا رہا ہے اور رواں سال ستمبر میں ڈیٹا اکٹھا کرنے والے سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجنے کا اعلان کیا تھا جب کہ 2013 میں ایک بندر خلا میں بھیجنے اور کامیابی سے واپس  لانے کا بھی اعلان کیا تھا۔ایران کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سائنسی تحقیق اور دیگر قسم کی عوامی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا سیٹلائٹ پروگرام جاری ہے۔دوسری جانب امریکا اور دیگر مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران کے سیٹلائٹ پروگرام کو مشکوک قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کی نیوز ایجنسی ارنا کی رپورٹ میں ٹیلی کمیونیکیشن کے وزیر عیسیٰ زارع پور کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران نے جانوروں کو لے کر جانے والا کیپسول مدار میں بھیجا ہے جس کا مقصد آئندہ برسوں میں خلا میں انسانی مشن بھیجنے کی تیاری ہے۔
اس کیپسول کو 130 کلومیٹر (80 میل) کے فاصلے پر مدار میں چھوڑا گیا ہے تاہم وزیر مواصلات نے یہ نہیں بتایا کہ یہ بائیو کیپسول میں کس قسم کے جانوروں پر مبنی ہے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے سلمان نامی راکٹ کی فوٹیج بھی دکھائی ہے جس کے ذریعے ایک کیپسول کو خلا میں بھیجا جا رہا ہے۔
یہ راکٹ ایران کی وزارت دفاع اور مسلح افواج کے لاجسٹکس کے ایرو اسپیس ونگ نے بنایا ہے اور ایرانی خلائی ایجنسی کے مطابق، 1,100 پاؤنڈ وزنی کیپسول اب تک کا سب سے بھاری حیاتیاتی کیپسول ہے جسے ایران نے کامیابی کے ساتھ مدار میں بھیجا ہے۔
عیسیٰ زارع پور نے اس حوالے سے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے اس کیپسول کے اجرا کا مقصد آنے والے برسوں میں ایرانی خلابازوں کو خلا میں بھیجنا ہے۔
واضح رہے کہ ایران اس سے قبل بھی مختلف سیٹلائٹ اور دیگر قسم کے خلائی راکٹس کو کامیابی سے مدار میں بھیجنے کا اعلان کرتا رہا ہے اور رواں سال ستمبر میں ڈیٹا اکٹھا کرنے والے سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجنے کا اعلان کیا تھا جب کہ 2013 میں ایک بندر خلا میں بھیجنے اور کامیابی سے واپس  لانے کا بھی اعلان کیا تھا۔
ایران کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سائنسی تحقیق اور دیگر قسم کی عوامی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا سیٹلائٹ پروگرام جاری ہے۔
دوسری جانب امریکا اور دیگر مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران کے سیٹلائٹ پروگرام کو مشکوک قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

Share this Article
- اشتہارات -
Ad imageAd image