Sargaram | Newspaper

پیر 26 فروری 2024

ای-پیپر | E-paper

لاپتہ افراد پیش کریں ورنہ وزیر اعظم خود پیش ہوں: اسلام آباد ہائیکورٹ

Share

اسلام آباد:(روزنامہ سر گرم) لاپتہ افراد کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ 55 لاپتہ افراد کو پیش کیا جائے ورنہ وزیر اعظم خود عدالت میں پیش ہوں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ  کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بلوچ جبری گمشدگی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد  کیس کی سماعت کی۔اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے وزراء کمیٹی کے اجلاس کی ایک صفحے پر مشتمل چھ نکات کی رپورٹ پیش کی گئی ۔

رپورٹ پر جسٹس محسن اختر کیانی برہم ،رپورٹ کی کاپی واپس کردی۔اس موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی  نے کہا کہ اس رپورٹ پر اس عدالت کے لیے  یہ شرم کا مقام ہے ۔وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔وزیراعظم اوروزیرداخلہ کواحساس ہونا چاہیے تھا کہ یہ بلوچ طلباء کا معاملہ ہے ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کی کمیٹی سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کر رکھی تھی۔عدالت نے کہا کہ جی دوگل صاحب پہلے تو آپکو بتادیں کہ یہ کیس ہے کیا تاکہ صورتحال واضح ہو جائے ۔عدالت کے حکم پر کمیشن بنا کمیشن قائم ہوا اس میں سوالات پیش کیے گئے۔معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجا گیا جبری گمشدگیوں کا معاملہ تھا۔صرف ایک کا نہیں 51 بلوچ طلباء کا معاملہ تھا۔ہم نے ملک کے وزیر اعظم کو معاملہ بھیجا۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ وزیر اعظم کو خود احساس ہونا چاہیے تھا ہم سمجھے وہ آکر کہیں گے یہ ہمارے بچے ہیں۔اگر انکے خلاف کوئی کریمنل کیس تھا تو رجسٹرڈ کرتے ۔آپ رپورٹ پڑھیں جو ہمیں پیش کی گئی ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل  نے بتایاکہ جو بھی معمالہ ہوا متعلقہ وزارت دیکھتی ہے یا سب کمیٹی کے سامنے بھیجا جاتا ہے۔کمیٹی پھر معاملہ وزیر اعظم اور کابینہ کے ساتھ شئیر کرتی ہے۔

Share this Article
- اشتہارات -
Ad imageAd image