Sargaram | Newspaper

پیر 26 فروری 2024

ای-پیپر | E-paper

لاہور ہائیکورٹ کا پرویز الٰہی کو کل عدالت پیش کرنے کا حکم

Share

لاہور: ہائیکورٹ نے چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو بحفاظت پرویز الٰہی کو عدالت پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

کیس کی سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو وکیل پرویز الٰہی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم بھی معطل ہوگیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ انکے گرفتاری غیر قانونی قرار ہوگئی، یہ معاملہ کیسے اسلام آباد کی دائرہ احتیار میں جا سکتا ہے اور لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔

وکیل پرویز الٰہی نے کہا کہ پرویز الٰہی کو لاہور ہائیکورٹ میں پیش کرنا چاہیے یہی عدالت نے حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی پرویز الٰہی کو عدالت میں پیش کریں۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ ہم نے عدالتی حکم کو چلینج کر رکھا ہے، پرویز الٰہی کو پیش کرنے سے پہلے ہماری گزارشات سن لی جائیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ میں صرف یہی کہہ رہا ہوں کہ جو آرڈر عدالت کا ہے پہلے اس پر عمل درآمد ضروری ہے۔

قبل ازیں، ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر آئی جی اسلام آباد، چیف کمشنر اسلام آباد اور سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو 11 بجے تک طلب کر لیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی کی درخواست پر سماعت کی۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن، ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس ایس پی آپریشنز کیخلاف توہین عدالت اور حبس بے بجا کی درخواست دائر کی تھی۔

عدالت نے حبس بے بجا کی درخواست پر سماعت 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

دوران سماعت، عدالت نے پرویز الٰہی کو پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیوں نہ آپ کو توہین عدالت کے جرم میں سزا دی جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ عدالت کا پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا واضح حکم تھا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کے وکیل پیش ہو کر وضاحت کریں۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ دل کے عارضہ کے باعث پرویز الٰہی کو پیش نہ کیا گیا، ڈی سی اسلام آباد نے بیماری کی بنا پر ان کو سفر کرنے سے منع کیا۔ سرکاری وکیل غلام سرور نہنگ نے بتایا کہ پرویز الٰہی کو ڈی سی اسلام آباد نے نقص امن عامہ کے تحت نظر بند کر دیا ہے۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب غلام سرور نہنگ نے حبس بے جا کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے استدعا کی کہ اب حبس بے بجا کی درخواست کا جواز نہیں رہتا۔

ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک بطور بیلف پیش ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا کہ پرویز الٰہی کو نظر بند ہونے کی بنا پر بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔

قیصرہ الٰہی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ آئی جی اسلام آباد توہین عدالت میں پیش نہ ہوئے ان کو طلب کیا جائے۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔

سرکاری وکیل کا موقف تھا کہ عمران خان کی عدالت پیشی کی بنا پر جیل سپرنٹنڈنٹ پیش نہ ہوئے۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر رکھا ہے۔

Share this Article
- اشتہارات -
Ad imageAd image