Sargaram | Newspaper

اتوار 03 مارچ 2024

ای-پیپر | E-paper

منی ایکس چینجرز کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے، آرمی چیف کی تاجروں کو یقین دہانی

Share

لاہور:  آرمی چیف اور  تاجروں میں معاشی بحالی کیلئے اہم مشاورت ہوئی جس میں جنرل عاصم منیر نے بھرپور اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ معاشی شی بحالی کیلئے ٹاسک فورسز قائم ہوں گی، منی ایکسچینجز کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے اور  ڈالر کے تبادلے، انٹربینک ریٹس میں شفافیت لائی جائے گی۔

لاہور چیمبر آف کامرس کا نمائندہ وفد تشویشناک کاروباری منظر اور عوام کی پریشانیوں کے حوالے سے اپنی تجاویز لیکر کور کمانڈر ہیڈ کوارٹرز گیا تھا جہاں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کور کمانڈر ہیڈ کوارٹرز  میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی بھی موجود تھے۔

وفد نے تجاویز دیں کہ بھاری بجلی بلوں سمیت عوامی،کاروباری مسائل حل کیے جائیں، سیاسی جماعتیں انتخابات سے قبل چارٹر آف اکانومی پر دستخط کر یں۔

سربراہ پاک فوج جنرل عاصم منیر نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل کے اہم کردار پر روشنی ڈالی، جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور دیگر ممالک سے 100ارب ڈالر تک کی خاطر خواہ سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی صلاحیت پر زور دیا گیا۔

انہوں نے اقتصادی معاملات اور مختلف شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے والی ٹاسک فورسز کی تشکیل کا انکشاف کیا،کاشف انور نے ٹاسک فورس کے ایجنڈے میں بزنس کمیونٹی کے نقطہ نظر کو شامل کرنے کے لیے تمام چیمبرز کے ساتھ فعال شمولیت کی سفارش کی اور بجلی کے بلوں پر انکم اور سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز دی، عوام بجلی پر زیادہ ٹیکس کے بوجھ سے دوچار ہے جس سے روزمرہ کی زندگی، کاروبار اور عام لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

مزید برآں، کاشف انور نے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے لیے ایک عملی نقطہ نظر متعارف کرایا اور بتایا کہ موسم سرما کے مہینوں میں جب بجلی کی کھپت کم ہوتی ہے، صارفین پر مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ان کی وصولی سردیوں میں کی جائے۔پاکستان کے معاشی منظر نامے میں شرح مبادلہ کے اہم کردار پر بات کرتے ہوئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ دونوں میں امریکی ڈالر کی قیمتوں پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول کرنے پر زور دیا۔

جنرل عاصم منیر نے مثبت جواب دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ منی ایکسچینج کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے گا، ڈالر کے تبادلے اور انٹربینک ریٹس میں شفافیت کو فروغ دیا جائے گا۔

صدر لاہور چیمبر نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اسٹیٹ بینک کے ریٹ اور ہنڈی کی شرح کے درمیان تفاوت اکثر ترسیلات کے معاملے میں ہنڈی چینلز کو ترجیح دینے کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر یہ شرحیں ہم آہنگ ہو جائیں تو قدرتی طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے ذریعے ترسیلات زر آئیں گی۔کاشف انور نے کاروباری برادری اور متعلقہ حکام کے درمیان ایک بہتر اور پائیدار بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کاروباری شعبے کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز پر ردعمل کی موجودہ کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔

مزید برآں کاشف انور نے سیاسی جماعتوں سے متحد وابستگی پر زور دیا اور کسی بھی آئندہ انتخابات سے قبل چارٹر آف اکانومی پر دستخط کرنے کی تجویز پیش کی۔

گرے معیشت کے وجود کے بارے میں جنرل عاصم منیر کے ریمارکس پر بات کرتے ہوئے، جو مجموعی دستاویزی معیشت کا 2 سے 3 گنا ہے، کاشف انور نے ایک اختراعی طریقہ کار تجویز کیا۔

انہوں نے گرے معیشت کے شعبے کو رسمی، سفید معیشت میں منتقلی کے لیے ترغیب دینے کی سفارش کی، اس وسیع مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک اسٹریٹجک حل پیش کیا۔

صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ جب تک گرے اکانومی غیر مربوط رہے گی، رسمی، سفید معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے کے قابل نہیں رہے گی، ٹیکس بیس کی توسیع نا ممکن رہے گی۔

Share this Article
- اشتہارات -
Ad imageAd image