موسم گرما کی تعطیلات میں لی گئی آدھی فیس واپس کی جائے، سپریم کورٹ

0
120

5 ہزار سے زائد فیس لینے والے اسکولوں کو 20 فیصد کٹوتی کا حکم، موسم گرما کی تعطیلات میں لی گئی آدھی فیس واپس کی جائے، سپریم کورٹ
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 5 ہزار روپے سے زائد فیس لینے والے نجی اسکولوں کو فیس میں 20 فیصد کمی کرنے اور 2 ماہ کی موسم گرما کی چھٹیوں کی فیس کا 50 فیصد والدین کو واپس کرنے کا حکم دے دیا ہے۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ 5 ہزار روپے سے زائد فیس لینے والے نجی اسکول سالانہ 5 فیصد سے زیادہ فیسوں میں اضافہ نہیں کریں گے اور اگر اس سے زیادہ اضافہ کرنا ہوگا تو ریگولیٹری باڈی سے منظوری لینا ہوگی اور وہ بھی 8 فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں ہوگا۔عدالت نے ایف بی آر کو نجی اسکولز مالکان اور ڈائریکٹرز کے انکم ٹیکس گوشواروں کی چھان بین،22 نجی اسکولوں کےاکائونٹس قبضے میں لینے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ایک ایک کمرے کے اسکول سے اتنا اتنا پیسہ بنایا، اب یہ صنعت کار بن گئے ہیں۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے نجی اسکولوں کی زائد

فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس سلسلے میں نجی اسکولوں کے وکیل، ڈپٹی آڈیٹر جنرل اور چیئرمین ایف بی آر عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت ہائی کورٹس کے فیصلوں کی پابند نہیں، آگاہ کیا جائے فیس میں خاطر خواہ کمی کیسے ہوگی، عدالت خود فیصلہ کریگی کہ فیس میں مناسب کمی کتنی ہوگی۔ اس موقع پر بیکن ہاؤس کے وکیل نے کہا کہ ہر اسکول کی فیس اور سالانہ اضافہ مختلف ہے، پنجاب کے سابق وزیر تعلیم نے سالانہ 10 فیصد اضافے کا قانون بنانے کا کہا اور رانا مشہود اسمبلی سے صرف 8 فیصد کی منظوری لے سکے۔ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے سابق وزیر تعلیم کا اپنا بھی کوئی اسکول ہو گا۔دورانِ سماعت نجی اسکول کی وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ تمام اسکول 8 فیصد فیس کم کرنے کو تیار ہیں، اس پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ 8 فیصد تو اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ 20 سال کا آڈٹ کرایا تو نتائج بہت مختلف ہوں گے جب کہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ اسکولوں نے اپنی آڈٹ رپورٹس میں غلط اعداد دیے۔چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ فیس میں آٹھ فیصد کمی کی تجویز ناقابل قبول ہے، میں نے تو فیس میں 20 فیصد کمی کا حکم دیا تھا، ایک اسکول کا ڈائریکٹر 85 لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہے، لاہور گرامر اسکول کے ڈائریکٹر کا چہرہ دیکھنا چاہتا ہوں، کوئی خدا کا خوف بھی ہوتا ہے، بندہ روزانہ نوٹ پھاڑنا شروع کرے، ایک ماہ میں 85 لاکھ پھاڑ بھی نہیں سکتا، اتنی بڑی تنخواہ سی ای او اور ڈائریکٹر لے رہے ہیں، کیا ان لوگوں نے یورینیم کی کان لگا رکھی ہے۔عدالت نے ایف بی آر کو لاہور گرامر اسکول کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور کو ابھی فون پر آگاہ کیا جائے، اکاؤنٹس کا مکمل ریکارڈ اور کمپیوٹر بھی تحویل میں لے لیے جائیں، لاہور گرامر اسکول کے ڈائریکٹر کا پانچ سالہ ٹیکس ریکارڈ بھی پیش کیا جائے۔آڈیٹر جنرل حکام نے کہا کہ نجی اسکول نے پانچ افراد کو 512 ملین تنخواہوں کی مد میں ادا کئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ نجی اسکولز کو غیر ضروری منافع نہیں کمانے دیں گے، سرکاری اسکول اس قابل نہیں کہ والدین بچے بھجوا سکیں، مالکان ایک اسکول سے 250 اسکولوں کے مالک بن گئے۔طلبہ کے والدین کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہر سال فیس میں 10 سے 20 فیصد اضافہ کرنے والے اسکول 1 بار 20 فیصد کمی پر تیار نہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ عدالت کو بنیادی فیس کے حوالے سے قانون بنانا پڑے گا۔بیکن ہاؤس کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بیکن ہاؤس نے 764 ملین ٹیکس دیا ہے، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے بہت ٹیکس دیا ہوگا لیکن اس کا طالب علم کو کوئی فائدہ نہیں، اس کا فائدہ تو تب ہو گا جب فیس کم ہو گی۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ 8 فیصد ہر سال بڑھائی جائے تو 4 سال میں 32 فیصد فیس بڑھ گئی۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ایک اسکول سے آپ ڈھائی سو اسکول کے مالک بن گئے، والدین مجبور ہیں کہ فیل کرنے میں پرائیویٹ اسکولوں کا ہاتھ ہے، ایک ایک اسکول سے کئی سو اسکول بنائے گئے، سب طالب علموں سے پیسے نکالے گئے۔جسٹس ثاقب نثار نے چیئرمین ایف بی آر کو عدالت میں طلب کرکے حکم دیا کہ ایف بی آر ان اسکولوں کا پچھلے سات سال کا ٹیکس ریکارڈ چیک کرے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے نجی اسکول کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ سرکاری اسکولوں کی کمی پوری کررہے ہیں، دراصل آپ نے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد عبوری حکم دیا کہ ملک بھر کے ایسے نجی اسکول جو 5 ہزار روپے سے زائد فیس وصول کرتے ہیں وہ اپنی فیسوں میں 20 فیصد تک کمی کریں گے۔سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ ایسے نجی اسکول گرمیوں کی فیسوں کا 50 فیصد والدین کو ادا کریں یا اس رقم کو اسکول کی فیس میں ایڈجسٹ کریں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تعلیمی ادارے کارپوریٹ ٹیکس ادا نہیں کرتے اور صرف اِنکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 26 دسمبر تک ملتوی کردی۔عدالت عظمیٰ نےʼʼ میڈیا کارکنوں اور صحافیوں کو تنخواہوں اور بقایا جات کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آئندہ سماعت تک کیس کی پیروی کرنے کے لئے اپنے متفقہ نمائندوں کے ناموں کی فہرست جمع کروانے جبکہ جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے صحافیوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی شکایت پر متاثرین کو باضابطہ طور پر درخواست دائر کرنے کا حکم جاری کیا ہے ،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجا زالاحسن پر مشتمل بنچ نے جمعرات کے روزکیس کی سماعت کی تو درخواست گزاروں کے علاوہ پی ایف یو جے کے ایک دھڑے کے صدر افضل بٹ جبکہ دوسرے دھڑے کے صدر پرویز شوکت سمیت متعدد رہنما بھی پیش ہوئے ،جس سے عدالتی ڈیکورم متاثر ہوا تو چیف جسٹس نے کہا کہ یا تو آپ لوگ متعلقہ فورم لیبر کورٹ ،آئی ٹی این ای سے رجوع کریں یا پھر آج ہی سپریم کورٹ کی لائبریری میں بیٹھ کر اپنے نمائندوں کا تعین کرلیں ، ہر دوسرا آدمی انفرادی طور پر ہاتھ اٹھا کر کھڑا ہے کہ اسے سنا جائے،دوران سماعت فاضل عدالت نے نوائے وقت گروپ کی سربراہ رمیزہ نظامی کی جانب سے عدالتی حکم کے باوجود صحافیوں اور کارکنوں کی تنخواہیں اور بقایا جات ادا نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ بیان حلفی دینے کے باوجود عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر ادارے کے خلاف فوجداری، توہین عدالت اور کمپنی لاز کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے،عدالت نے رمیزہ نظامی کو آئندہ سماعت پر27 دسمبر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم جاری کیا ،دوران سماعت ایگزیکٹ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے صحافیوں اور کارکنوں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی درخواستوں پر چیف جسٹس نے ڈائریکٹر نیوز سمیع ابراہیم سے پوچھا کہ تنخواہیں کب دیں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ پیشرفت ہو رہی ہے اور کچھ کارکنوں کو ادائیگی کر دی گئی ہے ،جس پر پرویز شوکت نے کہا کہ یہ غلط بیانی کر رہے ہیں ،دوران سماعت جیو نیوز چینل کے کچھ کارکنوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں، آپ نے 29جولائی کو اس حوالے سے ایک حکم بھی جاری کیا تھا ،جس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے بلکہ اس فیصلہ کے بعد تو چھانٹیا ں اور کٹوتیاں شروع کردی گئی ہیں، کل ہم نے اس حوالے سے ایک درخواست بھی دائر کی تھی ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حامد میر کمیٹی واقعی کچھ ڈیلیور نہیں کرسکی ہے ،میں سوچ رہا ہوں کہ کسی ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے ،دوران سماعت جیوکے کارکنوں نے بتایا کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہمارے ادارے کو اشتہارات کے پیسے ادا نہیں کررہی ہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے ؟ بعد ازاں فاضل عدالت نے جیو نیوز کے متاثرہ صحافیوں اورکارکنوں کو ایک نئی درخواست باضابطہ طور پر دائر کرنے کی ہدایت کے ساتھ کیس کی مزید سماعت 27دسمبر تک ملتوی کردی ۔

جنگ

کوئی تبصرہ نہیں