Sargaram | Newspaper

اتوار 03 مارچ 2024

ای-پیپر | E-paper

کِشمِش طبی فوائد کے اعتبار سے ’سپرفوڈ‘ کے قریب جا پہنچی

Share

لندن: کِشمِش دنیا بھر میں استعمال کی جانے والی ایک مرغوب غذا ہے جسے انگور خشک کرکے تیار کیا جاتا ہے۔ اب اس میں کئی طبی فوائد سامنے آئے ہیں جو اسے سپرفوڈ کے مزید قریب کر دیتے ہیں۔

بالخصوص میٹھی ڈشوں میں کِشمِش رغبت سے استعمال کی جاتی ہے لیکن اب اس میں کئی اہم غذائیت بھرے اجزا بھی دریافت ہوئے ہیں۔ توانائی میں کمی ہو تو مٹھی بھر کِشمِش فوری طور پر طاقت بڑھاتی ہے۔

واضح رہے کہ انگوروں سے پانی کم کرکے یا انہیں دھوپ میں سکھا کر کِشمِش بنائی جاتی ہے۔ یوں پھل میں مختلف اقسام کی شکریات باقی رہ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو اپنے معالج کے مشورے سے کِشمِش کھانی چاہیے۔

قدرتی شکریات کے علاوہ، کِشمِش میں غذائی فائبر، وٹامن، معدنیات بھرپور مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ ایک چوتھائی کپ میں 130 کیلوریز، ڈیڑھ گرام فائبر، پوٹاشیئم، فولاد، وٹامن بی، فرکٹوز اور گلوکوز کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کھلاڑیوں اور سخت محنت کرنے والے افراد کشمش کھاکر فوری طور پر توانائی حاصل کرسکتے ہیں۔

لیکن کِشمِش کے بیش بہا طبی فوائد بھی ہیں:

ہاضمے لیے مفید

کِشمِش کھانے سے معدے اورآنتوں کی صحت بہتر رہتی ہے۔ آنتوں کی اندرونی حرکت (بوویل موومنٹ) بڑھتی ہے اور قبض ختم ہوتی ہے۔ اس میں  موجود قدرتی ریشے سے نظامِ ہاضمہ کو بہت تقویت ملتی ہے۔

قلب کے لیے مفید

ہم جانتے ہیں کہ پوٹاشیئم نہ صرف دل کے لیے بہترین معدن ہے بلکہ یہ بلڈ پریشر کو بھی معمول پر رکھتا ہے۔ کِشمِش میں پوٹاشیئم کی فراوانی اسے دل کا دوست بناتی ہے۔

مختلف اقسام کے فلے وینوئڈز اور فینولک ایسڈز دل کے اندر سوزش گھٹاتے ہیں اور طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس کی صورت میں دیگر کئی امراض سے بھی بچاتے ہیں۔

ہڈیوں کے محافظ

کِشمِش میں کیلشیئم اور بورون خاصی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ان کا باقاعدہ استعمال ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اور گٹھیا یا جوڑوں کے درد کو ٹالتا ہے۔

کِشمِش اور فولاد

فولاد کئی جسمانی افعال کے لیے بہت ہی ضروری ہے۔ بالخصوص خون میں فولاد کی کمی کئی بیماریوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ کِشمِش میں موجود فولاد کئی طرح سے مفید ہے اور انیمیا یا خون کی کمی کو دور کرتی ہے۔

اینٹی آکسیڈںٹس

ہم جانتے ہیں کہ اینٹی آکسیڈنٹس پوری جسمانی مشینری کے لیے کس قدر ضروری ہیں۔ یہ خلوی سطح پر ٹوٹ پھوٹ کو روکت ہیں اور کینسر جیسے مرض  کے حملے کو پسپا کرتے ہیں۔

Share this Article
- اشتہارات -
Ad imageAd image