Sargaram | Newspaper

منگل 05 مارچ 2024

ای-پیپر | E-paper

22 سالہ فوزیہ (فرضی نام) الماری سے اپنا پیلا اور سیاہ لباس اتارتی ہیں، اپنے ہاتھوں میں سیاہ بریسلیٹ پہنتی ہیں اور آئینے میں دیکھتی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ رات کو باہر جانے کے لیے تیار ہیں۔

Share

22 سالہ فوزیہ (فرضی نام) الماری سے اپنا پیلا اور سیاہ لباس اتارتی ہیں، اپنے ہاتھوں میں سیاہ بریسلیٹ پہنتی ہیں اور آئینے میں دیکھتی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ رات کو باہر جانے کے لیے تیار ہیں۔

اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد انھوں نے ملک چھوڑ کر پاکستان میں پناہ لی تھی۔ انھوں نے ہم جنس پرستوں کی ایک محفل میں زنانہ کپڑوں میں رقص کرتے ہوئے اُن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد اُنھیں ’اپنی جان بچانے کے لیے افغانستان سے مجبوراً بھاگنا پڑا تھا۔‘

مشرقی شہر جلال آباد سے تعلق رکھنے والی فوزیہ کہتی ہیں کہ ’افغانستان سے فرار ہونے کے بعد میرے گھر والوں کو پتہ چلا کہ میں ٹرانس جینڈر ہوں اور میرے والد نے مجھ سے کہا کہ اب جب تم گھر سے بھاگ گئے ہو تو کبھی واپس نہ آنا، گھر کے دروازے ہمیشہ کے لیے تم پر بند ہو گئے ہیں۔‘

23 سالہ جمیلہ (فرضی نام) مشرقی افغانستان کے صوبہ لغمان سے تعلق رکھنے والی ایک اور افغان ٹرانس جینڈر پناہ گزین ہیں۔ طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد وہ افغانستان سے فرار ہوئے اور پاکستان میں پناہ لی۔

ٹرانس لوگ معاشرے کے ایسے افراد ہیں جو اپنی صنفی شناخت کو پیدائش کے وقت ان کی جنس سے مختلف سمجھتے ہیں۔

افغانستان میں ’ناممکن‘ واپسی

جمیلہ کے لمبے لمبے بال ہیں، اور جب بھی ان کا سرخ اور پیلا سکارف ان کے سر سے سرکنے کی بعد کندھوں پر آگرتا ہے تو وہ اسے واپس اپنے سر پر کھینچ لیتی ہیں۔ انھوں نے سرخ، جامنی اور پیلے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور بولتے ہوئے وہ نظریں جھکا لیتی ہیں اور زمین کی طرف دیکھتی ہیں۔

جمیلہ کا کہنا ہے کہ ’جب میرے گھر والوں نے میرے ڈانس کی ویڈیوز دیکھی تو انھیں احساس ہوا کہ میں ٹرانس ہوں، میرے بھائیوں نے مجھے بری طرح پیٹا، میں شدید زخمی ہو گئی تھی، میرے والد نے مجھے کلہاڑی سے بھی مارنے کی کوشش کی، لیکن میری ماں نے مجھے ہاتھ سے پکڑا اور گھر سے باہر نکال دیا اور کہا کہ اگر تم زندہ رہنا چاہتے ہو تو یہاں سے چلے جاؤ۔‘

فوزیہ پاکستانی ٹرانس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے چند افراد کے ساتھ رہتی ہیں جن کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے نوکری ملنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ پارٹیوں اور شادیوں میں رقص کر کے پیسہ کماتے ہیں۔ فوزیہ کہتی ہیں کہ جب وہ ان پارٹیوں میں جاتی ہیں، تو وہ انھیں بھی اپنے ساتھ لے جاتی ہیں تاکہ ’اپنے سامان اور بیگ کی دیکھ بھال کر سکیں۔‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ رہائش اور کھانے کے بدلے ان لوگوں کے گھر کا کام کرتے ہیں۔

سنہ 2018 سے قبل پاکستان کی ٹرانس کمیونٹی بہت سے قانونی اور سماجی حقوق سے محروم تھی۔ ان لوگوں کو، جنھیں اکثر ان کے اہل خانہ بچوں اور نوعمروں کے طور پر مسترد کر دیتے ہیں، ماضی میں تعلیم اور صحت کی خدمات تک رسائی کے حق سے بھی محروم رکھا گیا۔ اب پاکستان کی شرعی عدالت کی مخالفت کے باوجود ان کے پاس نسبتاً حقوق ہیں۔ ٹرانس خواتین جو گروہوں میں رہتی ہیں، کبھی کبھی بھیک مانگنے کا کام کرتی ہیں، کبھی کسی پارٹی میں رقص کرتی ہیں، یا جسم فروشی پر مجبور کی جاتی ہیں۔

فوزیہ اور جمیلہ، جو ان گروہوں کے ساتھ رہتی ہیں، کی حیثیت ایک جیسی ہے۔ فوزیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی اور غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی زندگی ’ذلت آمیز‘ ہے۔

گرفتاری اور ملک بدری کا خطرہ

پاکستان 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین اور پناہ گزینوں کا گھر ہے جن میں سے ایک کروڑ 70 لاکھ کے بارے میں اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی ہیں، جن میں سے بہت سے طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد ملک میں آئے تھے۔

پاکستانی حکومت نے نومبر میں ’غیر قانونی تارکین وطن جن کے پاس پاکستان میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے‘ کو ملک بدر کرنے کے لیے ایک مہم شروع کی تھی۔ لیکن فوزیہ اور جمیلہ کا کہنا ہے کہ اگر انھیں افغانستان واپس بھیجا گیا تو وہ طالبان یا ان کے اپنے رشتہ داروں کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔

جنوری 2022 میں ہیومن رائٹس واچ اور ایکشن انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ ’ہم جنس پرست، اور ٹرانس جینڈر افغان اور وہ لوگ جو افغانستان میں سخت صنفی اصولوں پر عمل نہیں کرتے ہیں وہ تیزی سے مایوس کن صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں اور طالبان کی حکمرانی میں ان کی سلامتی اور زندگی کو سنگین خطرات کا سامنا ہے۔‘

جمیلہ کہتی ہیں کہ ’پاکستان میں زندگی مُشکل ضرور ہے مگر ’قابل برداشت‘ ہے اور پاکستانی پولیس انھیں گرفتار کر سکتی ہے اور کسی بھی وقت انھیں افغانستان واپس بھیج سکتی ہے۔‘

دونوں پاکستانی ٹرانس لوگوں کے ساتھ خوراک اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ویٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’اگر وہ مجھے کھانا دیتے ہیں تو میں کھانا کھاتا ہوں، اگر نہیں ملتا تو مُجھے زندہ رہنے کے لیے جسم فروشی کی جانب جانا پڑے گا۔‘

جمیلہ کہتی ہیں کہ وہ ہفتے میں ایک یا دو بار پارٹیوں میں جاتی ہیں اور جب وہ واپس آتی ہیں تو اکثر انھیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آوارہ گھومنے والے افراد اجتماعی ریپ کا نشانہ بھی بناتے ہیں اور بعد میں مجھے دھمکی دیتے ہیں کہ اگر میں نے پولیس یا کسی اور کو اطلاع دی تو وہ مجھے مار ڈالیں گے۔‘ میں پولیس کے پاس نہیں جا سکتا کیونکہ میرے پاس دستاویزات نہیں ہیں اور پولیس مجھے واپس افغانستان بھیج دے گی، لہٰذا مجھے برداشت کرنا پڑے گا۔‘

فوزیہ کا کہنا ہے کہ انھیں ایک بار پاکستانی پولیس نے گرفتار کیا تھا لیکن بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

Share this Article
- اشتہارات -
Ad imageAd image